ترک صدارتی اور پارلیمانی انتخابات‘ بیرونِ ملک ووٹنگ شروع

88
برلن: جرمنی میں مقیم ترک شہری ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں
برلن: جرمنی میں مقیم ترک شہری ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں

برلن ؍ پیرس ؍ ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں بیرون ملک ووٹنگ گزشتہ روز شروع کردی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک سے باہر رہنے والے 30 لاکھ ترک شہریوں کے لیے 60 ممالک میں 123 انتخابی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جرمنی میں مقیم تقریباً 14 لاکھ ترک شہری ترکی کے
صدارتی و پارلیمانی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ جرمنی کے علاوہ آسٹریا اور فرانس میں مقیم ترک شہری 19 جون تک اپنا ووٹ درج کروا سکتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک شہریوں کی سہولت کے لیے جرمنی میں قائم ترک سفارت خانوں میں 13، آسٹریا میں 3 اور فرانس میں 6 انتخابی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابات میں 30 لاکھ سے زائد بیرون ملک بسنے والے ترک شہری اپنا ووٹ ڈال سکیں گے، یہ تعداد اجتماعی ووٹرز کا 5 فیصد حصہ ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس ترکی میں صدارتی ریفرنڈم کے موقع پر برلن حکومت کی جانب سے ترک سیاستدانوں پر جرمنی میں انتخابی مہم کے حوالے سے پابندی عاید کی گئی تھی اور ترک صدر طیب اِردوان کی جانب سے قبل از وقت اعلان کردہ آیندہ انتخابات کے دوران یہ پابندی برقرار رہے گی جس کے تحت ترکی میں 24 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر بھی ترک سیاستدانوں کو جرمنی میں انتخابی سرگرمیاں سرانجام دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ترکی کے جنوب مغربی صوبے مُگلا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اِردوان نے کہا کہ آج (جمعرات) سے مغربی ممالک میں مقیم ہمارے بھائی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، آپ پر امید رہیں۔ ان شاء اللہ یورپ میں تمام بیلٹ بکس بھر جائیں گے۔ واضح رہے کہ ترکی میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے سلسلے میں منعقد کیے جانے والے گزشتہ ریفرنڈم کے دوران 63 فیصد ترک نژاد جرمن شہریوں نے صدر اِردوان کی حمایت میں ووٹ ڈالا تھا۔ رجب طیب اِردوان کی سیاسی جماعت ’اے کے پی‘ نے 2002ء میں پہلی مرتبہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔
ترک انتخابات

Print Friendly, PDF & Email
حصہ