ماہ رمضان ہم سے کیا چاہتا ہے؟

84

ڈاکٹر انیس احمد
رمضان کریم ایک ایسا مبارک اور رحمتوں والا مہینہ ہے جس کا انتظار اور استقبال ایک عام مسلمان ہی نہیں، خاتم النبیینؐ جن پر ہمارے والدین قربان ہوں، خصوصی عبادات کے ذریعے فرمایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ شعبان ہی سے اس ماہ کے لیے کمر کس لیا کرتے تھے لیکن رحمت للعالمینؐ کا اپنی اْمت کی آسانی کے لیے یہ خصوصی اظہارِمحبت تھا کہ، گو خود تمام شعبان روزہ رکھتے لیکن اْمت کو آخری دو ہفتوں کی رخصت دے کر صرف شعبان کے اوّلین حصے میں روزہ رکھنے کی تلقین فرماتے۔
اس مہینے کی اہمیت اور اس کے انقلابی اثرات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ ایک بڑی عظمت والا بڑی برکت والا مہینہ قریب آگیا ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس میں روزہ رکھنا فرض کردیا گیا ہے اور راتوں میں تراویح پڑھنا نفل (یعنی سنت) ہے۔ اس ماہ میں ایک فرض کا ادا کرنا دوسرے کسی مہینے کے 70 فرض ادا کرنے کے برابر ہے۔ یہ مہینہ مواساۃ، یعنی ہمدردی کرنے والا مہینہ ہے۔
جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ اس ماہ میں روزہ رکھا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دے گا۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر باشعور مسلمان مرد، عورت اور بچہ اس ماہ میں خصوصی اہتمام کے ساتھ تلاوتِ قرآن، وقت پر نمازوں کا اہتمام، صدقات وخیرات اور غربا ومساکین کی امداد کرنے میں مسابقت کرتا ہے۔ اس کی برکتیں اَن گنت، اس کے انعامات غیرمحدود اور اس کی لذت اپنی مثال آپ ہے۔
تقریباً 1500 سال قبل جب پہلی مرتبہ رمضان کا مہینہ اپنی رحمتوں کے ساتھ خاتم النبیینؐ اور آپؐ کے اصحاب پر سایہ فگن ہوا تو ابھی 17 دن بھی نہ گزرے تھے کہ اْمت مسلمہ کو ایک ایسی جنگ کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے وجود کو ختم کرنے کی خاطر نظامِ کفر کی طرف سے اس پر مسلط کی گئی تھی۔ آج جدید جاہلیت پر مبنی تہذیب اور اس کے سرمایہ دار قائد اْمت مسلمہ کے خلاف اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ نبردآزما ہیں۔ جس طرح اس وقت اصحابِ رسولؐ میں سے کسی کے پاس نیزہ تھا تو تلوار نہ تھی، تلوار تھی تو ڈھال نہ تھی، خَود تھا تو زرہ نہ تھی، اسی طرح آج بھی اْمت مسلمہ جنگی آلات کے لحاظ سے کم تر مقام رکھتی ہے۔ لیکن جس چیز نے قرن اوّل میں اْمت مسلمہ کو فتح مند کیا تھا، وہ اس کی اسلحہ میں برتری نہ تھی، بلکہ اس کا وہ کردار وتقویٰ تھا جس کی تیاری میں اسے 13 سال آزمایشوں کی دہکتی بھٹیوں سے گزرنا پڑا تھا۔ اللہ کے یہ چند بندے اپنے کْند بھالوں کے باوجود ایمان کی غیرمحدود قوت، کردار کی عظمت، خلوص کی کثرت اور رب کریم سے اپنے تعلق کی فراوانی کی بنا پر اپنے سے تین گنا زیادہ تعداد اور 10 گنا زیادہ مسلح قوت سے نہ صرف ٹکر لینے بلکہ آخرکار اس قوت کو توڑنے اور شکست دینے کی نیت سے نکلے تھے۔ ان کے رب نے ان کو وہ عزم دیا تھا جو غیرمتزلزل ہو اور ایسی استقامت دی تھی جو فتح و کامرانی کا پیش خیمہ ہو۔
آج اس پُرآشوب دور میں اس برکتوں والے مہینے کے ذریعے ہمیں اولاً اپنے آپ کو باطل کی تمام محکومیوں سے نکال کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی میں دینا ہوگا۔ یہ بندگی کامیابی کے لیے شرطِ اول کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں خاتم النبیینؐ کے اسوہ کو اپنا رہنما بنانا ہوگا کہ بہترین اسوہ اور بہترین قابلِ عمل نمونہ اگر کوئی ہے تو وہ صرف آپؐ کی حیاتِ مبارکہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں دشمن کی حکمت عملی اور منصوبوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کس کس راستے سے وہ ہم پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ دشمن کی جنگی حکمت عملی کا اوّلین نکتہ اْمت مسلمہ کو ثقافتی، ابلاغی اور برقی اتصالات (ذرائع ابلاغ) کے ذریعے مغلوب کرنا ہے۔
یہ مہینہ زندگی میں اعتدال اور توازن پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ حکم ہے کہ بغیر سحری روزہ نہ رکھا جائے اور نہ سحری اتنی زیادہ ہو کہ دن میں ایک روزے دار پریشان رہے۔ ایسے ہی افطار میں توازن ہو اور بجاے اپنے اْوپر اسراف کرنے کے اہلِ محلہ، غریبوں، مسکینوں، قرض داروں، غرض ان تمام افراد پر خرچ کیا جائے جو مسائل کا شکار ہوں۔ لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہو یا کسی کی مشکل دْور کرنا، ہر معاملے میں متوازن رویہ اختیار کرنا ہی رمضان کا پیغام ہے۔
اس مبارک مہینے کا ایک مقصد تزکیۂ نفس ہے کہ انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھنا سیکھے اور اپنی خواہشات کو اللہ کی بندگی کا تابع بنا دے۔ یہ ان تمام ترغیبات کے خلاف ایک مسلسل جہاد ہے جو انسان کو غیرمحسوس طور پر برائی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں سادگی اور کفایت شعاری کی تعلیم دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا، جن کا شمار کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں، شکر ادا کرنے کے لیے اللہ کی دی ہوئی دولت، وقت اور صلاحیت کو اْس کے دین کے غلبے کے لیے استعمال کیا جائے اور ان تحریکوں کا ساتھ دیا جائے جو دنیا سے طاغوتی نظام کو مٹانے اور اسلامی شریعت نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب انسانوں میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعے ایک فکری انقلاب لایا جائے اور اس فکری انقلاب کے دائرۂ کار کو خاندان، معاشرے اور معیشت وتعلیم کے شعبوں تک وسعت دے دی جائے۔ اس مہینے میں اللہ کے بندوں کے دلوں کی دنیا میں انقلاب لایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت اختیار کی جائے۔ قرآن کریم ہدایت کرتا ہے کہ اللہ کے بندے تو وہ ہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے، ہر حال میں اللہ کے ذکر کو اختیار کرتے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں مسنون دعاؤں کے خصوصی اہتمام کی ضرورت ہے۔
رمضان کریم کی برکات میں سے ایک بڑی برکت اس کا آخری عشرہ ہے۔ اس میں وہ قوت والی طاق رات ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا۔ اس کلام کی عظمت و شوکت اس بات کی متقاضی تھی کہ اسے ایک قوت والی رات ہی میں نازل کیا جائے۔ آج قرآن کریم کی یہ قوت ہی وہ محرک ہے جس نے عالمِ اسلام کے نوجوانوں میں رجوع الی القرآن اور رجوع الی اللہ کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس عظیم رات میں جو انقلاب تاریخ عالم میں برپا ہوا، اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہوئے۔ اس رات کے بعد، انسانوں کا تصورِ کائنات، تصورِ انسان، تصورِ الٰہ اور مقصدحیات کا تصور، غرض ہر ہر شعبے میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ کل تک جو انسان سیاروں، ستاروں اور چاند سورج کی پرستش کرتا تھا، اب ان سب کے خالق رب العالمین کا بندہ بن گیا۔ کل تک جو انسان جانوروں اور بتوں کے سامنے جھکتا تھا، ان سے ڈرتا تھا، ان سے اپنی مرادیں مانگتا تھا اور بعض اوقات خود کو ربِ اعلیٰ سمجھ بیٹھتا تھا، اب اْس انسان نے اپنی اصل عظمت کو پہچانا اور عبدیت کو انسان کی معراج سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو تمام غلامیوں سے نکال کر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حاکمیت کے آگے سرتسلیم خم کر دیا۔ کل تک اگر زندگی کا مقصد لذت، مال ودولت کی کثرت اور اقتدار کی ہوس تھا، تو اب زندگی کا مقصد صرف حاکمِ حقیقی کی رضا کا حصول اور اس رضا کے حصول کے لیے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا اہتمام قرار پایا۔ اس ایک رات نے زمین وآسمان کا نقشہ بدل دیا اور ایک ایسی اْمت کے وجود کی بنیاد رکھی جسے رب کریم نے انسانوں کی قیادت وامامت کے لیے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے، زمین سے ظلم کو مٹانے اور عدل وانصاف کے قیام کے لیے ایک مقصد اور مشن کے ساتھ تمام انسانوں پر جواب دہ بنادیا۔
یہ مہینہ ظلم واستیصال کے خلاف منظم جہاد کا مہینہ ہے کہ کفر کی ہر ہرچال کو سمجھ کر دین کی فراست اور حکمت کے ساتھ اس چال کو توڑا اور معروف کے قیام کے لیے مثبت اقدامات کو اختیار کیا جائے۔ یہ ماہ مثبت فکر، مثبت عمل اور مثبت کوشش کا مہینہ ہے۔ اس میں بھلائی کے لیے نکلنے والوں کی نصرت اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے کرتے ہیں۔ اس ماہ میں کی گئی منظم جدوجہد اہلِ ایمان کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں تبدیل کردیتی ہے اور بعض اوقات اپنی قلت تعداد کے باوجود وہ اپنے سے 10 گنا زیادہ نفری پر غالب آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہ کی برکات سے استفادے کی توفیق دے، ہر عمل خیر میں برکت دے، اور ہر کوشش کو خصوصی نصرت سے نوازے۔ آمین!

Print Friendly, PDF & Email
حصہ