جنت کا خزانہ

80

عبد الغفار عزیز
رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ جنت تم سے تمہارے جوتے کے تلوے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم کی آگ بھی۔ (بخاری)۔
نیکیوں سے جھولیاں بھر لینا کس قدر آسان ہے۔ ادھر دل میں نیکی کا ارادہ کیا اور ادھر نامۂ اعمال میں اجر ثبت ہوگیا۔ ارادے پر عمل بھی کرلیا تو اجر 10 سے 700 گنا تک بڑھ گیا۔ برائی سے نظریں پھیر لیں، اجر ثابت ہوگیا اور تو اور اپنے روزمرہ کے معمولات کو عادت کے بجائے، اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کے جذبے سے کیا تو وہ بھی عبادت بن گئے۔ دوسری طرف شیطان بھی ہر لمحے ساتھ لگا ہے۔ قدم قدم پر برائیوں کے پھندے لگائے بیٹھا ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ نیکی میں بھی بدنیتی کی آلائشیں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جہاد، شہادت، قربانی، تلاوت ودروسِ قرآن، اِنفاق، عبادات، غرض ہر نیکی کو ریا اور دکھاوے جیسی غیرمحسوس برائیوں کے ذریعے ایسے کردیتا ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
رسول رحمتؐ اسی حقیقت کی خبر دے رہے ہیں کہ قدم قدم پر جنت کی ہوائیں بھی ہیں اور دوزخ کی لپٹیں بھی۔ اب دونوں راستوں میں سے ایک کا انتخاب ہم میں سے ہر شخص نے خود کرنا ہے۔ پروردگار اسی انتخاب کے مطابق توفیق عطا کر دے گا۔
سیدنا ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہؐ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کی طرف آپ کی رہنمائی نہ کروں؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں یارسول اللہ! آپ نے فرمایا: وہ خزانہ ہے: لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم (اللہ علی وعظیم کی مدد کے بغیر، کسی کے بس میں کوئی قوت وقدرت نہیں) بندہ جب یہ کلمات کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھ پر بھروسا کیا اور (اپنے تمام معاملات) میرے سپرد کر دیے۔ (مسنداحمد، ترمذی)
بندے کے دل میں یہ یقین راسخ ہونا ضروری ہے کہ کارخانۂ قدرت میں ہر چیز صرف اور صرف پروردگار کی محتاج ہے۔ اللہ کے فیصلے، اس کی توفیق اور اس کی قوت وقدرت کے بغیر کوئی پتّا اور کوئی ذرّہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ انسان جس کے بارے میں خالق نے خود فرمایا کہ ’’کمزور پیدا کیا گیا ہے،‘‘ ہر لمحے اور ہر حال میں اللہ کا محتاج ہے۔ اللہ کی حفاظت نہ رہے تو خوشیوں میں آپے سے باہر ہوکر بندگی کے دائرے ہی سے نکل جاتا ہے۔ مشکلات یا مصیبتیں آئیں تو مایوسی اور ہلاکت کی جہنم میں جا گرتا ہے۔ اقتدار واختیار ملے تو خود کو فرعون اور دوسروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتا ہے۔ اختلافات کا شکار ہو تو اپنے ہی بھائیوں کے خون سے ہاتھ رنگ لیتا ہے، برائیوں اور اخلاقی غلاظت سے آلودہ ہو جائے تو جانوروں سے بدتر اور ذلیل ہو جاتا ہے۔ ایسے کمزور انسان کو شیطان ہر دم اپنے چُنگل میں جکڑے رکھتا ہے لیکن اگر بندہ اس یقین کے حصار میں آ جائے کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم تو رحمن کی رحمت اس خُود سپردگی پر جھوم اْٹھتی ہے، کمزور بندوں کو تمام کمزوریوں اور شیطانی چالوں سے نجات وحفاظت عطا کر دیتی ہے۔ اسی لیے فرمایا: ’’جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ۔‘‘
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ کی روایت کے مطابق جب سفر معراج میں آپؐ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو ابوالانبیا نے فرمایا: اے محمد (ص) اپنی اْمت کو جنت میں اپنے لیے فصلیں بونے کا حکم دے دیجیے۔ آپ نے دریافت کیا: جنت کی فصل کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا: لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
سیدنا عائشہؓ سے مروی ہے، رسول اللہؐ سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ مختصر اور تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری)
اسلام کسی وقتی اُبال، عارضی طور پر اپنالیے جانے والے اعمال، یا موسمی شغل اشغال کا نام نہیں، ہمہ وقت اور ہمہ پہلو اطاعت کا نام ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سمیت سب نیکیاں یہی ہمہ وقتی خود سپردگی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اسی کو تقویٰ کہتے ہیں۔ قرآن میں تمام عبادات کا اصل ہدف یہی بتایا گیا کہ شاید تم اس سے تقویٰ حاصل کرسکو۔ احساسِ اطاعت کے تحت ہمیشہ کیا جانے والا چھوٹا سا کام بھی اللہ کے نزدیک انتہائی محبوب ہے۔ ہمیشگی ایک چھوٹے سے عمل کو بھی بڑا بنا دیتی ہے۔
بندے کی مختصر سی نیکی پسند آجائے تو پھر یقیناً بندہ بھی خالق کا محبوب بن جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ