چنیدہوپسندیدہ

128

مولانا علی لھلک عمر:
ایک دفعہ سیدنا عمرؓ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہا: میں فتنے کو پسندکرتا ہوں اور حق کو ناپسندکرتا ہوں اور اس چیز کی شہادت دیتا ہوں جس کو میں نے نہیں دیکھا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے اس کو قید کرلیا۔ کیونکہ اس کے اندر ناقابل تلافی خرابیاں موجود تھیں، پھر سیدنا علیؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا:
امیر المؤمنین! آپ نے اس شخص کو ظلماً قید کیا ہے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: کیوں؟ اس کے اندر یہ تو تین خرابیاں ہیں۔
سیدنا علیؓ نے فرمایا: فتنے کو پسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مال اور اولاد سے محبت کرتا ہوں۔ اور اللہ ہی نے فرمایا ہے کہ تمہارا مال و اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔
اور حق کو ناپسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میں موت کو ناگوار سمجھتا ہوں حالانکہ موت بالکل برحق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اور موت کی جن کنی حق لے کر آپہنچی۔
اور ’اس چیز کی شہادت دیتا ہوں جس کو میں نے نہیں دیکھا‘ کا مطلب یہ ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ حالانکہ میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں۔ اس کے بعد سیدنا عمرؓ نے فرمایا: لولا علی لھلک عمر‘‘ (اگر علی نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہوجاتا) اور اس شخص کو قید سے رہا کردیا۔ (تحفہ الطلبۃ العروف بہ مآرب الطلبہ، ص:586 )
خلیفۂ وقت کا کھانا:
رمضان شریف میں ایک روز ہاشم بن قاسم خلیفہ المہتدی باللہ کو ملنے گئے جب وہ واپس چلنے لگے تو خلیفے نے کچھ دیر مزید بیٹھنے کی خواہش کی تو وہ بیٹھ گئے۔ روزہ افطار کرکے خلیفے نے نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر خلیفے نے کھانا منگوایا۔ خادم بید کی ایک ٹرے میں کھانا لایا جس میں میدے کی روٹیاں کچھ نمک، سرکا اور زیتون کا تیل تھا۔
خلیفے نے ہاشم بن قاسم کو کھانے میں شریک کرلیا۔ ہاشم نے مختصر سا کھانا دیکھ کر یہ خیال کیا کہ مزید کھانا ابھی آئے گا۔ اس لیے آہستہ آہستہ کھانے لگے۔ خلیفہ سمجھ گیا اور پوچھا:
’’تم روزہ سے نہیں تھے؟‘‘
ہاشم نے جواب دیا: ’’میں روزے سے تھا۔‘‘
خلیفے نے کہا: ’’کل روزہ نہیں رکھو گے؟‘‘
ہاشم بولے: ’’رمضان شریف کا مہینہ ہے۔ کیوں نہیں رکھوں گا۔‘‘
خلیفے نے کہا: ’’تو اچھی طرح سے کھاؤ اور یہ نہ سمجھو کہ مزید کھانا آئے گا۔ ہمارے ہاں اس کھانے کے سوا اس وقت گھر میں کچھ بھی موجود نہیں۔‘‘
’’یہ سن کر ہاشم بن قاسم بہت حیران ہوئے اور پوچھا: ’’یاامیرالمؤمنین یہ کیا؟ بفضلہ تعالیٰ آپ کو سب نعمتیں میسر ہیں۔‘‘
خلیفے نے بتایا: ’’اس میں کوئی شک نہیں، مگر جب میں نے بنوامیہ کے خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے حالات کا بغور مطالعہ کیا تو دیکھا کہ آپ کم کھاتے تھے اور رعایا کی فکر زیادہ کرتے تھے اس وجہ سے لاغر ہوگئے تھے۔ اور جب میں نے اپنے خاندان پر نظر دوڑائی تو مجھے بہت غیرت آئی کہ ہم لوگ بنی ہاشم ہو کر بھی ان جیسے نہ ہوں۔‘‘
اس تفکر کا نتیجہ تھا کہ آپ زاہد وعابد ہونے کے علاوہ احکام الٰہی کے اجرا میں بہت سخت تھے۔ مگر اب مسلمانوں میں ایسی غیرت کہاں؟ (داستاں عمل از ایم عبدالرحمن خان)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ