اندرون سندھ ، تراویح اور سحری میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ، عوام کو مشکلات

51

حیدرآباد، بدین، جھڈو، میرپورخاص(نمائندگان جسارت) ضلعی انتظامیہ اور حیسکو کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے پہلی تراویح اور پہلے روزے ہی میں بدترین لوڈ شیڈنگ، شدید گرمی میں شہری بلبل اٹھے ۔حکومت، وزات پانی وبجلی، ضلعی انتظامیہ اور حیسکو حکام کی جانب سے ماہ رمضان المبارک میں بالخصوص تراویح اور سحر وافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے دعوے کیے جارہے تھے لیکن وہ سب محض جھوٹے دلاسے ہی رہے پہلی تراویح کے دوران بیشتر علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل رہی جبکہ یکم رمضان المبارک کو دن بھر شدید گرمی کے باوجود ہر دو گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جبکہ جن علاقوں سے ٹرانسفارمر اتار لیے گئے ہیں وہاں عوام بلبل اٹھے بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے پانی کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے حیدرآباد شہر میں اس وقت شدید گرمی اور گرم ہوائیں چل رہی ہے جس کے باعث دن کے اوقات میں سڑکیں ویران ہیں لیکن بجلی نہ ہونے کے باعث لوگوں کو گھروں میں بھی چین نہیں ہے چوڑیوں کے کارخانہ میں گرمی کے سبب چار مزدور بیہوش مزدوروں کو بیہوشی کی حالت میں سول اسپتال منتقل کر دیا بیہوش ہونے والے 27 سالہ عدنان 35 سالہ یونس 25 سالہ ساجد اور 26 سالہ کامران شامل ہیں۔ عوام نے واپڈا کی بدترین ناکامی پر شدید رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکمران روزداروں کی بدعائیں نہ لیں اورماہ رمضان میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ماہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی بدین شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ،متعدد علاقوں میں ناکارہ ٹرانسفامرز تبدیل نہ کرنے کے خلاف شہریوں نے قاضیہ پل پر ٹائر نذر آتش کرکے روڈ بلاک کردیا۔ بدین شہر میں ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی حیسکو انتظامیہ نے بجلی بلاجواز بند کردی جسکی کی وجہ سے مختلف علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے اور ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بدین شہر کے مختلف علاقوں، بلاول پارک، حیدر ٹاؤن، محلہ صدیق کمبھار میں ناکارہ ٹرانسفارمرز تبدیل نہیں کیے جاسکے جسکی وجہ مختلف علاقوں میں شہریوں ہدایت اللہ بلیدی، اسماعیل کھٹی،ابوبکر سومرو، علی محمد راہموں ندیم عباسی،محمد موسیٰ سموں،جمن سومرو،و دیگر قاضیہ پل پر احتجاج کرتے ہوئے دہرنا دیا اور ٹائر نذرآتش کرکے روڈ بلاک کردیا شہریوں نے کہا ایک ہفتے سے شدید گرمی میں تڑپ رہے ہیں حیسکو انتظامیہ نے کافی وقت گزر جانے باوجود ناکارہ ٹرانسفارمرز تبدیل نہیں کیے ہیں، جس کی وجہ شہری سخت اذیت کا شکار ہورہے ہیں، اس کے بعد مشتعل افراد نے حیسکو کے خلاف سخت نعرے بازی کی ،ایس ایچ او محمد قاسم پنہور نے دھرنے کی جگہ پہنچ کر بجلی بحال کروانے کی یقین دہانی کے بعد دہرنا ختم کردیا گیا ۔ حیسکو کے دعووں کے برعکس جھڈو اور نواحی علاقوں میں تراویح اور سحری کے اوقات میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے بدھ کی شب پہلے روزے کی تراویح میں جھڈو کے وارڈ نمبر9،10,11اور اسٹیشن روڑ کے علاقوں میں تراویح اور نماز عشا کے اوقات کے دوران اور صبح سحری کے وقت بجلی غالب رہی نماز یوں نے نہ صرف تراویح اندھیرے میں ادا بلکہ بجلی کی بندش سے سحری بھی اندھیرے میں کی شدید گرمی میں بجلی کی آنکھ مچولی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، جس سے روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، بجلی صارفین نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ میر پورخاص کے علاقے چنڈ موریو ، مہران کالونی، اور دیگر علاقوں میں گزشتہ چار روز سے بجلی غائب علاقہ مکین سخت گرمی میں پریشان اور پانی کی بوند بوند کو ترس گئے جبکہ کئی علاقوں میں بدبو دار پانی کی فراہمی سے مقامی افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے۔ ان دنوں حیسکو حکام کی جانب سے میرپورخاص سمیت دیگر مضافات میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے علاوہ بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے شہری سخت گرمی میں انتہائی اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، میرپورخاص کے علاقے چنڈموریو اور مہران کالونی میں گزشتہ چار روز سے بجلی کی سپلائی بند ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے رہائشیوں کو اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شکایات درج کرانے کے باوجود بجلی کی فراہمی بحال نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی چوروں کے کنکشن منقطع کیے جائیں اور بل کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو بجلی فراہم کی جائے جبکہ میرپورخا ص کے علاقے اسکیم نمبر دو ، بھانسنگھ آباد، اورنگ آباد اور ملحقہ علاقوں میں شدید بدبو دار پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ