صنعتی شعبہ کیلیے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ناقابل قبول ہے،ایف پی سی سی آئی 

29

کراچی( اسٹاف رپورٹر)فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے صدرغضنفر بلورنے کہا ہے کہ صنعتی شعبہ کے لیے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔صنعتی شعبہ کو دس گھنٹے تک بجلی سے محروم رکھنا حکومت کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے دعووں کی نفی ہے ۔ طویل لوڈ شیڈنگ سے صنعتی پیداواراورمحاصل کے شعبے متاثر ہو ں گے جبکہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے اس لیے اس پر نظر ثانی کی جائے۔ایف پی سی سی آئی کے صدرغضنفر بلور نے کہا کہ ملک بھر اور صوبہ خیبر پختونخواہ کا صنعتی شعبہ پہلے ہی متعدد مسائل سے دوچار ہے اس لیے اس کی مشکلات میں اضافہ نہ کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہو رہی ہے جو حکومت کے بلند بانگ دعووں کی نفی ہے۔ رمضان المبارک سے ایک دن قبل بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ ملک کے بیشتر حصوں میں عوام کو دن بھر بجلی سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے گھروں،ا سکولوں، دفاتر،اسپتالوں، عدالتوں وغیرہ میں صورتحال خراب رہی ۔اس سلسلہ میںآزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جن کی وجہ سے کروڑوں عوام متاثر ہوئے اور ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔انھوں نے کہا کہ اہم آسامیوں پر اقرباء پروری کے بجائے میرٹ کو ترجیح دی جائے، ٹیکنیکل آسامیوں پر نان ٹیکنیکل افراد کی تعیناتی بند کی جائے اور بجلی کے شعبہ میں مختلف محکموں کے سربراہوں کی آسامیوں پر بیوروکریٹس کے بجائے تجربہ کار انجینئرز کو تعینات کیا جائے۔
تا۔کہ اس شعبہ کا زوال روکا جا سکے۔ ایف پی سی سی آئی کے چیئر مین کو آرڈینیشن ملک سہیل نے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال نے توانائی کے شعبہ کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ اس شعبہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود صورتحال بہتر ہو رہی ہے نہ عوامی شکایات میں کمی آ رہی ہے جس سے آمدہ الیکشن میں ووٹروں کی ترجیحات بدل سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ توانائی کے منصوبوں پر اربوں ڈالر لگائے گئے مگر ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجہ میں اکثر سارا ملک تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ