آج کی تراویح (2-3)

90

۔۔۔مرتّبہ: محمد احمد وصفی۔۔۔

دوسری تراویح: آج کی تراویح میں دوسرے پارے کے ربع سے تیسرے پارے کے نصف تک تلاوت کی جائے گی۔
سورۂ بقرہ بڑی حد تک اسلامی دعوت، حقوق اللہ، حقوق العباد، نظام زندگی اور معاشرتی تعلیم کا نچوڑ ہے۔
نماز، روزہ اور حج کے احکامات بھی موجود ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات، امدادِ باہمی، مشاورت، شادی، طلاق، عدّت، وصیت، لین دین اور قرض کے بارے میں تعلیم دی گئی ہے۔
سود خوری، شراب نوشی اور حرام و حلال چیزوں کی بابت بھی ہدایت دی گئی ہے۔ امر ونہی یعنی جائز اور ناجائز باتوں کی تعلیم کا بھی زیادہ حصہ اس میں موجود ہے، جسے اسلامی ضابطۂ حیات کہتے ہیں۔ آج کی تلاوت کے سلسلے میں ایمان کی شرط یہ بتائی گئی ہے کہ ’’ایمان لاؤ اللہ پر، اللہ کے رسولؐ پر، روزِ آخرت پر، فرشتوں پر، پیغمبروں پر اور ان سب کتابوں پر جو مختلف پیغمبروں پر نازل کی گئی تھیں‘‘۔ اور حکم دیا گیا کہ ’’اپنے مال میں سے والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور غلاموں کی مدد کرنے میں خرچ کرو۔‘‘
قتل کے بارے میں خون کے بدلے خون اور اگر مقتول کے وارث راضی ہوں تو خون بہا یعنی معاوضہ کا حکم دیا گیا ہے اور شراب اور جوئے کی بالکل ممانعت کردی گئی ہے۔
مشرک اور مسلم مرد عورت کا نکاح ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
بچوں کو دو سال تک اپنا یا غیر عورت کا دودھ پلانے کی اجازت دی گئی ہے۔
سود کا لین دین قطعاً حرام قرار دیا گیا ہے۔
اس سورۂ مبارکہ میں پیغمبروں کے دل کے اطمینان کے لیے مُردوں اور مُردہ جانوروں کو زندہ کرکے دکھائے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دعا کرنے کے الفاظ اور طریقے سکھائے ہیں۔ اسی سورۃ میں کئی مرتبہ آیاتِ قرآنی پر غور کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ (اس لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کا مفصل ترجمہ بھی ضرور پڑھا یا سنا جائے تاکہ قرآن کی تعلیم کا مقصد پورا ہو)
سورۂ آلِ عمران کی پہلی اٹھارہ آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ عبادت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے اور یہ کہ قیامت ضرور برپا ہوگی اور اعمال کی جزا و سزا ضرور ملے گی۔ قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ حق اور باطل کو الگ الگ کردے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جنگِ بدر میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اس میں سمجھ داروں کے لیے نشانیاں اور غور کرنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔ ارشاد ہوا کہ ’’اہلِ ایمان مشکلات میں صبر کرتے ہیں۔ عبادت کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور رات کے پچھلے حصے میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں‘‘۔
(تیسری تراویح)
آج کا بیان تیسرے پارے کے نصف سے چوتھے پارے کے ثلث (تہائی) کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ اس میں جنگِ بدر اور جنگِ احد دونوں کا ذکر ہے۔ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی جن کے پاس مناسب بنیادی ہتھیار تک نہ تھے۔ جب کہ کفار کی تعداد ایک ہزار کی تھی اور وہ پوری طرح مسلح تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور یوں ان کو فتح نصیب ہوئی۔ یہ جنگ بہت سی آنے والی جنگوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ جنگِ بدر میں شکست کے بعد مکہ کے مشرکین نے بہت بڑے لشکر کے ساتھ مدینے پر چڑھائی کی اور اُحد کے میدان میں مسلمانوں سے جنگ کی۔ اس جنگ میں فتح ہوتے ہوتے مسلمانوں کو شکست ہوگئی کیوں کہ فوج کے ایک حصے نے نبیؐ کی ہدایات اور حکم کے خلاف عمل کرکے بھاگے ہوئے دشمن کا مال لوٹنا شروع کردیا۔ مسلمانوں کی اس حرکت کی وجہ سے فتح شکست میں بدل گئی۔ یہاں تک کہ نبیؐ کے رُوئے مبارک پر زخم بھی آئے۔ منافقین نے بھی مسلمانوں سے فریب کیا اور فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں کمزوریوں کی نشان دہی کرکے اصلاح کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ ارشاد ہوا کہ ’’کج فہم لوگ قرآن سے من مانے مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ عذابِ الٰہی میں مبتلا ہوں گے۔‘‘ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’غیر مذہب والوں کو اپنا رازدار نہ بناؤ۔‘‘
اب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر ہے۔ سیدہ مریم علیہا السلام سیدنا زکریا علیہ السلام کی کفالت میں پرورش پارہی تھیں۔ سیدہ مریم علیہا السلام اعتکاف میں ہوتیں تو ان کے پاس بے موسم کے پھل اللہ پاک کی قدرت سے آتے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام‘ بی بی مریم علیہا السلام کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے جس کی تصدیق خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے ہی میں بات کرکے کی تھی۔ پھر ان کے معجزات کا بھی ذکر ہے‘ لیکں عیسائی اپنے اس عقیدے پر بضد ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی گئی تھی۔
یہودیوں کی طرح عیسائی بھی اسلام کی دعوت کے سخت مخالف تھے۔ چناں چہ نبیؐ اور عیسائیوں کے درمیان مباہلہ کی ایک شرط رکھی گئی کہ دونوں فریق اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کردیں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ لیکن عیسائی اس پر قائم نہ رہے اور مباہلہ میں شرکت نہ کی۔ اللہ جھوٹی قسمیں کھانے کی سخت ممانعت فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کو بندے کے لیے آزمائش قرار دیا ہے اور بخل سے منع فرمایا ہے۔ مال اور اولاد نجات کا ذریعہ نہیں ہیں۔ نجات تقویٰ اور پرہیزگاری سے حاصل ہوتی ہے۔ مومن قرآن پر ایمان رکھتا ہے اور عاجزی سے اللہ کے حضور میں دعائیں مانگتا ہے۔ وہ قرآن کی آیتوں کا معاوضہ نہیں لیتا۔ مومن کے نیک اعمال کا صلہ اس کے ربّ کے پاس ہے۔ تاکید فرمائی گئی ہے کہ اے ایمان والو! جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو تو میدان میں ثابت قدم رہو اور اپنے مورچوں پر ڈٹے رہو۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں