قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

83

کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ در حقیقت یہ با ت وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہوگی، ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے) ۔ آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ (سورۃ الانعام:27تا29)

سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا سے بے رغبتی اور زہد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے اوپر کسی حلال کو حرام کرلے اور اپنے مال کو برباد کردے (یعنی اپنے پاس مال نہ رکھے) بلکہ زہد یہ ہے کہ تمہیں اپنے مال سے زیادہ خدا کے انعام اور بخشش پر اعتماد ہو اور جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو جو اس کا اجر و ثواب ملنے والا ہے اس پر تمہاری نگاہ جم جائے اور تم مصائب کو ذریعہ ثواب سمجھو۔ (ترمذی)۔۔۔سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبیؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینک لے تو اسے ’’الحمدُللہ‘‘ کہنا چاہیے اور اس کے بھائی یا ساتھی کو اس کے لیے ’’یر حمک للہ‘‘ کہنا چاہیے اور جب وہ اس کے لیے ’’یر حمک للہ‘‘ کہے تو اس چھینک لینے والے کو ’’یھدیکم اللہ و یصلح بالکم‘‘ (اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے) کہنا چاہیے۔ (بخاری۔ ریاض الصالحین)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں