کرنا ٹک :جمہوریت کا خون ،بی جے پی نے حکومت بنالی

47

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمہوریت پر شب خون مارتے ہوئے ریاست کرناٹک میں حکومت بنالی۔ خبررساں اداروں کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی 104 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بنی، تاہم تنازع اس وقت شروع ہوا جب گورنر نے بی جی پی کو حکومت بنانے کی ہدایت کی۔ بھارتی آئین کے تحت حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 112 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ انتخابات میں کانگریس نے 78 نشستیں جیتی تھیں، جب کہ اسکی انتخابی اتحادی جنتا دل پارٹی نے 38 سیٹیں جیتیں، مگر گورنر نے انہیں حکومت سازی کی پیش کش نہیں کی تھی۔ اس معاملے پر کانگریس اور جنتا دل نے عدالت میں حکم امتناع کے لیے درخواست دی، جس پر سپریم کورٹ کے 3 اعلیٰ ججوں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی کیس کی رات 2بجے سماعت کی، مگر فیصلہ بی جے پی کے حق میں ہی آیا اور بی جے پی کو حکومت سازی کی اجازت دے دی گئی۔ سماعت 3 گھنٹے جاری رہی اور سپریم کورٹ نے کانگریس کی جانب سے بی جے پی کو حکومت سازی سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی اور بی جے پی کے رہنما بی ایس یڈیو رپا کو حلف اٹھانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے بی جے پی سے کہا ہے کہ حکومت سازی کے لیے ارکان کی حمایت کی جو فہرست اور خط اس نے گورنر کو پیش کیا ہے، وہ عدالت کے روبرو پیش کرے اور اس پر آیندہ سماعت آج جمعہ کو ہو گی۔ جمعرات کے روز بی ایس یڈیو رپا نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ بی ایس یدی یوروپا کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس اور جنتا دل نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ یڈ یورپا کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے کانگریس اور جنتا دل کے ارکان کو اپنی جانب لانا ہو گا۔ جنتا دل کے رہنما ڈی کمار اسوامی نے بدھ کے روز بی جے پی پر ان کے ارکان خریدنے کا الزام عائد کیا تھا، جس کی بی جے پی نے تردید کی تھی۔ سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین کا خیال ہے کہ گورنر نے ایک اقلیتی پارٹی کو حکومت سازی کی دعوت دی ہے، جسے بظاہر اضافی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ صرف ہارس ٹریڈنگ یعنی دوسری جماعتوں کے ارکان کو خرید کر مطلوبہ اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ کانگریس اور جنتا دل نے اپنے تمام نو منتخب ارکان اسمبلی کو بی جے پی کے شکار سے بچانے کے لیے بنگلور کے نواح میں 2 الگ الگ ریزورٹ اور ہوٹل میں رکھا ہے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان اور رہنماؤں نے اسمبلی کے سامنے مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔
جمہوریت کا خون

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں