امریکا میں شرحِ پیدایش 30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

56

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں 2017ء کے دوران شرحِ پیدایش 30 سال کی کم ترین سطح پر رہی اور 30 سال تک کی عمر کی خواتین میں ماں بننے کے رجحان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی حکومت کی جانب سے جمعرات کو جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں 2014ء سے شرحِ پیدایش میں مسلسل کمی آرہی ہے لیکن 2017ء کے دوران اس میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء کے دوران امریکا میں ایک سال قبل کے مقابلے میں 92 ہزار کم بچے پیدا ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں گزشتہ سال 38 لاکھ سے زائد بچوں کی پیدایش کا اندراج کرایا گیا اور یہ تعداد 1987ء کے بعد امریکا میں ایک سال کے دوران پیدا ہونے والے کل بچوں کی کم ترین تعداد ہے۔ رپورٹ امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے ملک بھر میں جاری کیے جانے والے برتھ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر مرتب کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں 2017ء کے دوران شرحِ پیدایش میں کمی اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ عموماً معاشی صورتِ حال بہتر ہونے کی صورت میں شرحِ پیدایش بڑھتی ہے۔ امریکا میں گزشتہ سال بے روزگاری کی شرح میں نمایاں کمی آئی تھی اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہونے کے سبب شرحِ نمو میں اضافہ ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شرحِ پیدایش میں کمی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سرِ فہرست نوجوان لڑکیوں میں ماں بننے کی خواہش اور رجحان میں کمی اور تارکینِ وطن کی آبادی میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ امریکا میں تارکِ وطن خاندانوں میں شرحِ پیدایش مقامی آبادی کی نسبت خاصی بلند ہے اور ہر سال امریکا بھر میں جنم لینے والے کل بچوں میں سے ایک چوتھائی تارکِ وطن خاندانوں میں جنم لیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکا میں آباد تارکینِ وطن کی ایک بہت بڑی تعداد ایشیائی باشندوں پر مشتمل ہے جو دیگر تارکِ وطن گروہوں کے مقابلے میں نسبتاً کم بچوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حمل کے لیے موزوں عمر سمجھی جانے والی 15 سے 44 سال کی خواتین میں شرحِ پیدایش ریکارڈ حد تک گر گئی ہے اور گزشتہ سال اس عمر کے گروپ کی ہر ایک ہزار میں سے صرف 60 خواتین کے ہاں بچوں کی پیدایش ریکارڈ کی گئی۔ واضح رہے کہ امریکا کا شمار ان چند ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے جہاں شرحِ پیدایش نسبتاً بلند ہے۔ گو کہ امریکا میں شرحِ پیدایش اب بھی اسپین، یونان، جاپان اور اٹلی جیسے ملکوں کے مقابلے میں خاصی بہتر ہے لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فرق بتدریج کم ہورہا ہے۔
امریکا ؍ شرحِ پیدایش

Print Friendly, PDF & Email
حصہ