ایران میں پھر حکومت مخالف مظاہرے‘ 2شہری ہلاک‘ 7 زخمی

40

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہرے شروع کردیے گئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جنوبی شہر کازیرون میں ہنگامہ آرائی کے دوران 2 شہری ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ادارے فارس کے مطابق تازہ واقعہ حکومت کے خلاف ایک مظاہرے کے دوران پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ بدھ کی شب مشتعل افراد نے ایک تھانے کو بھی نذر آتش کر دیا۔ علاقے کے لوگ خطے میں ایک انتظامی ڈوژن قائم کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ برس 28 دسمبر سے یکم جنوری کے دوران سماجی مسائل کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج کیے گئے تھے، جن میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عرب ٹی وی کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کے کارکنان نے بتایا ہے کہ فارس صوبے کے شہر کازیرون میں بدھ کے روز ہونے والے ایک پر امن احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں کم از کم 2 مظاہرین جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔ مظاہرین شہر کی تقسیم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ اس دوران پولیس نے ان پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے۔ سماجی کارکنوں نے مظاہرین پر پولیس کے حملے کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں۔ مشتعل ہجوم نے دوار کے مقام پر قائم ایک پولیس اسٹیشن پر دھاوا بولا اور اسے آگ لگا دی۔ مظاہرین نے پولیس کی کئی گاڑیاں بھی نذرآتش کر ڈالیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین شاہراہ فلسطین میں پھیل گئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور شہر کی تقسیم روکنے کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کارکنوں کا کہنا ہے کہ پر تشدد احتجاج کے بعد پولیس نے فارس صوبے کے کئی علاقوں میں کرفیو لگا دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے سابق معاون حمید بقائی کو دوران حراست نا مناسب حالات میں رکھنے پر ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ العربیہ کے مطابق ایک ریکارڈڈ بیان میں سابق صدر محمود احمدی نژاد نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی رجیم کو المناک واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور نظام حکومت کو جڑوں سے اکھاڑا بھی جاسکتا ہے۔ احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی غلطیوں کی اصلاح کے بجائے ان پر اصرار کررہی ہے۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو ایرانی رجیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا اور المناک واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے حکومت اور برسراقتدار طبقہ المناک واقعات کا شکار ہوگا جس کے بعد ایرانی رجیم کو بھی اکھاڑا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ میں حیران ہوں کہ حکومت ہوش کے ناخن کیوں نہیں لیتی۔ ظلم ایرانی رجیم کو جڑوں سے اکھاڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد موجود حکومت اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ سابق صدر اور ایرانی حکومت کے درمیان سیاسی رسا کشی کا سلسلہ کئی سال سے جاری ہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ احمدی نژاد کے ایک سابق معاون خصوصی حمید بقائی بھی مبینہ طور پر کرپشن ہی کے الزام میں جیل میں قید ہیں۔
ایران ؍ مظاہرے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ