ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیے جانے کا امکان

68

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے اس وقت بہت پر اعتماد نظر آئے جب انہوں نے شمالی کوریا سے رہا ہونے والے 3 امریکیوں کو ملک میں خوش آمدید کہا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے نہ صرف ان کے اپنے حامیوں بلکہ دیگر امریکیوں کو بھی اطمینان کا احساس دیا اور خود صدر کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ نیو یارک میں ڈیموکریٹک نیشنل پارٹی کے چیئرمین ملک ندیم عابد کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ سربراہ کانفرنس کے علاوہ صدر کی مقبولیت میں اضافے کی اور بھی وجوہات ہیں جن میں ایک چیز جو زیادہ سامنے نہیں آئی، وہ امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ بھی ہے۔ رپبلکن پارٹی کی سینئر مشاورتی کمیٹی کے رکن اور شکاگو کے ایک مضافاتی علاقے کے پولیس کمشنر طلعت رشید کے مطابق صدر نے ٹیکسوں کے نظام میں جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے اس سے کمپنیوں کی حالت بہت بہتر ہوئی ہے، معیشت کو ترقی ملی ہے اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو یہ شکایت رہی ہے کہ ملکی معیشت میں نمایاں بہتری کے باوجود انہیں اس کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے بجائے ذرائع ابلاغ امریکی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے معاملے کو زیادہ اچھالتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک یہ صرف ایک بیکار چھان بین ہے۔ صدر ٹرمپ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 12 جون کو سنگاپور میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ شمالی کوریا کو ایٹمی پروگرام ترک کرنے پر آمادہ کرنے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی ٹرمپ کی کوششوں کو ان کی ایک اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے اور رپبلکن پارٹی انہیں امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا چاہتی ہے۔ رپبلکن پارٹی کے کارکن طلعت رشید نے کہا کہ رپبلکن تو یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ٹرمپ اگلی مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہو جائیں گے کیوں کہ ڈیموکریٹس کے پاس کوئی نمایاں امیدوار ابھی تک نہیں ہے۔
ٹرمپ ؍ نوبل انعام

Print Friendly, PDF & Email
حصہ