کوریا سے جوہری ہتھیاروں کےخاتمے کے عزم پر قائم ہیں‘ ٹرمپ

29

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملاقات کے بعد ہی اندازہ ہوگا کہ دو طرفہ تعلقات میں کیسے پیش رفت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے سربراہان ملاقات کے بائیکاٹ کی کوئی خبر نہیں ملی ۔وائٹ ہاؤس میں ازبکستان کے صدر سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں شمالی کوریا کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں ملی۔ اس موقع پردیگر امریکی حکام نے امید ظاہر کی کہ جون میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات حالیہ واقعات کے باعث منسوخ نہیں ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ اس ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل شمالی کوریا نے سخت الفاظ پر مبنی بیان جاری کیا تھا، جس میں دھمکی دی گئی کہ اگر امریکا نے شمالی کوریا پر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دیا تو وہ 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات منسوخ کر دے گا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔تاہم اگر ملاقات نہیں ہوتی تو ہم شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رکھیں گے ۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے،تاہم امریکا شمالی کوریا پر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دے گا۔ شمالی کوریا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات سے کئی امیدیں وابستہ تھیں ،لیکن وہ امریکا کی جانب سے دیے گیے حالیہ غیر ذمے دارانہ بیانات سے شدید مایوس ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کم کائے گوان سے منسوب بیان میں امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا کہ ہم جان بولٹن کے لیے اپنی سخت نفرت نہیں چھپاتے۔ ان کے بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا ہمیں کونے میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے ،تاکہ ہم اپنا جوہری پروگرام ترک کر دیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل جان بولٹن نے کہا تھا کہ شمالی کوریا لیبیا ماڈل پر عمل کرے گا ،جس کے تحت ملک نے جوہری پروگرام ترک کر دیا تھا لیکن کچھ سالوں بعد لیبیا سربراہ معمر قذافی کو مغرب نواز باغیوں نے قتل کر دیا تھا۔
کوریا /جوہری ہتھیار

Print Friendly, PDF & Email
حصہ