یمنی حکومت کی باغیوں کو قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش

64

صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمنی حکومت نے حوثی باغیوں کو قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سے ثالثی کا مطالبہ کیا ہے۔ یمنی حکومت چاہتی ہے کہ ماہ رمضان کے موقع پر تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ اس سے قبل بھی حوثی باغیوں اور یمنی حکومت کے مابین کئی بار قیدیوں کے تبادلے ہو چکے ہیں، جس میں کئی سو افراد کی رہائی ممکن ہوئی۔ تاہم مارچ 2015ء میں سعودی عسکری اتحاد کے یمن پر حملوں کے بعد سے قید کیے جانے والوں کی اصل تعداد تاہم غیر واضح ہے۔ دوسری جانب یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے کہا ہے کہ وہ یمن کو علاقائی امن تباہ کرنے والی قوتوں کی گزرگاہ نہیں بننے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر باغیوں کو کچلنے کا عزم کر رکھا ہے۔ حوثی ملیشیا یمن میں ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق یمنی صدر نے ان خیالات کا اظہار ماہ صیام کی آمد کی مناسبت سے قوم سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نواز حوثی باغیوں نے یمن کو بدترین تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ مگر اب وقت اگیا ہے کہ حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن عسکری کارروائی کر کے ملک کو دہشت گردوں سے پاک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی رجیم عرب خطے پر تسلط جمانے کا خوب دیکھ رہا ہے مگر ان کی توسیع پسندانہ شہنشاہیت ایک سراب ثابت ہوگی۔ ایران دوسرے ممالک اور اقوام کو تباہ کر کے ان کے ملکوں پر قبضہ کرنے کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوگا۔ صدر ہادی کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری لڑائی کا ایک بڑا حصہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان شا اللہ ہم جلد ہی فتح مبین حاصل کریں گے۔ انہوں نے یمن میں باغیوں کے خلاف آپریشن میں عسکری مدد کرنے پر عرب ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عرب عسکری اتحادی کی معاونت سے یمنی فوج ملک کا ایک بڑا حصہ باغیوں سے چھڑانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اب ہمیں باغیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کرنا ہے۔
یمن ؍ قیدیوں کا تبادلہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ