واٹر بورڈ کے بد عنوان عملے نے شاہ فیصل کالونی نمبر 5 کو کربلا بنا دیا

76

کراچی(اسٹاف رپورٹر)شاہ فیصل کالونی نمبر 5 کے علاقے واٹر بورڈ کے کرپٹ عملے کی وجہ سے کربلا بن گئے ، علاقے کی رہائشی خواتین متعدد بار واٹر بورڈ کے دفتر اور پمپ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کرچکی ہیں ، تاہم شنوائی نہیں ہورہی ہے ، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کے عملے کی ملی بھگت سے پیداگیری کے لیے ایسی لائنیں ڈالی گئی ہیں کہ پانی پلاسٹک کی بوتلوں میں بھر کر فروخت کیاجاسکے ، 10 سے 15 لیٹرز کی بوتلوں میں پانی بھر کر 25 سے 30 روپے میں فروخت کیاجارہاہے ۔ تفصیلات کے مطابق شاہ فیصل کالونی نمبر 4 ناتھا خان گوٹھ اور نمبر 5 کا واٹر پمپ واقع ہے یہاں سے پانی کی بندر بانٹ کا کام کیا جارہا ہے ، تاہم گزشتہ کئی ماہ سے شاہ فیصل کالونی نمبر 5 کے علاقے بریلی کالونی ، روشن آباد ، دھوبی گھاٹ اورگلنار بستی سمیت دیگر علاقے پینے کے پانی سے محروم ہیں علاقہ مکین احتجاج کرتے ہیں تو لائنوں میں پانی کھولا جاتا ہے جس میں گٹروں کی لائن کا گندا بدبودار پانی آتا ہے جبکہ نہ سیوریج لائنوں کی مرمت کی جارہی ہے اور نہ ہی پانی کی
لائنیں مرمت کی جارہی ہیں علاقے کی خواتین تپتی دھوپ میں مظاہرے کرچکی ہیں تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ پینے کے پانی کی لائنیں سیوریج لائنوں سے مل رہی ہیں اور بعض جگہوں سے بند ہوچکی ہیں اور سندھ حکومت نے فنڈز جاری نہیں کیے ہیں اس لیے کام نہیں کرسکتے۔ چند روز قبل شاہ فیصل کالونی نمبر 5 راشن شاپ اسٹاپ سے دارالعلوم سبحانیہ کے سامنے سے امام بارگاہ اور آگے ملیر ندی کے نیچے تک سیوریج لائنیں ڈالی گئیں ، واٹر بورڈ کا عملہ موجود تھا اس دوران پانی کی لائنیں ٹوٹ گئیں جو مرمت کرانے کے بجائے بند کردی گئی ہیں جبکہ عملہ من پسند لوگوں کودوسری لائن سے پانی دے رہا ہے، حیرت کی بات ہے کہ کربلا بنائے جانے والے علاقوں میں پانی فروخت کرنے والے 5 سے زائد افراد کو کہاں سے پانی دیا جارہا ہے جہاں دن رات پانی کی بوتلیں بھر کر فروخت کی جارہی ہیں، علاقے والے پمپ پر جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اوپر XEN سے بات کرو ان کو جو احکامات ملیں گے اس کے مطابق پانی کھولیں گے ، اب تمہاری لائنیں بند ہیں تو کیا کریں، کبھی کہا جاتا ہے کہ علاقے والے بل ادا نہیں کرتے ہیں ، علاقے کے یوسی چیئرمین انجینئر عامر سے جب اس حوالے سے بات چیت کی گئی تو ان کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ سندھ حکومت کا ادارہ ہے ان لوگوں کے مسائل بتاتے ہیں اگر وہ بولیں تو ساتھ کے ایم سی کا عملہ لگا سکتے ہیں تاہم لائنوں کی مرمت کا کام کرانا ان کا کام نہیں ہے اب رمضان آچکا ہے لوگ ان کے پاس آتے ہیں کہ پانی نہیں آرہا ہے ان کے علاقوں میں خاص طور پانی فروخت کرنے والوں کے پاس پانی آتا ہے ، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ والے کام شروع کرائیں وہ چندہ کرکے اخراجات اٹھانے کو تیار ہیں وہ مدد کریں گے اور مہاجروں کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے کان کھول کر سن لیں اب الیکشن آرہے ہیں جو دھڑا کام کرائے گا اس کو ووٹ دیں گے ورنہ ووٹ ہی نہیں دیں گے شاہ فیصل ٹاؤن میں واٹر بورڈ کے XEN محمد زاہد سے بار بار رابطہ کیاگیا تاہم رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ