غیر ملکی ڈرامے اچھے ہونگے، مگر ہمارا  ملک اسلامی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

127

اسلام آباد (آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد اور لاٹری شو پر پابندی کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اپیل پی بی اے اور نجی ٹی وی چینل نے دائر کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے
سنگل بنچ کی جانب سے رمضان المبارک میں لاٹری شوز پر عاید پابندی کے خلاف پی بی اے اور نجی چینل کی درخواست پر سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی شامل تھے۔ پاکستان براڈ کاسٹر ز ایسوسی ایشن کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفرپیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ آزادی اظہار رائے بنیادی حق ہے۔سنگل بنچ نے چینلز کو پانچ وقت اذان نشر کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے غیر ملکی پروگرامز ، انعامی شوز اور تفریحی پروگراموں پر بھی پابندی لگا دی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں غیر ملکی اور انڈین ٹی وی مواد پر پابندی ہے؟ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فارن میڈیا کی سنسر شپ کے حوالے سے پیمرا کی کیا پالیسی ہے۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ تمام چینلز خود ڈرامے و اشتہار سنسر کرتے ہیں، میڈیا کے لیے آئین میں موجودتمام حدود پیمرا کے ضابطہ اخلاق میں موجود ہیں۔چینلز کے لیے پیمرا ریگولیٹری ادارہ ہے، پیمرا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چینلز کے خلاف کارروائی کرتاہے۔ عدالت کی جانب سے چینلز پر شائستگی کی تشریح اور ریگولیشن سے متعلق آرڈر غیر قانونی ہے، یہ پیمرا نے دیکھنا ہے کہ کون سا چینل غیر شائستہ مواد پیش کر رہا ہے اور کون نہیں، علی ظفر نے کہا کہ اگر پیمرا اپنا کردار ادا نہ کر ے تو عدالت ڈائریکشن جاری کرسکتی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا پیمرا ضابطہ اخلاق بنا سکتاہے جس پر وکیل پیمرا بولے جی پیمرا کا کوڈ آف کنڈکٹ 1995 موجود ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کوئی چینل بھارتی اور دیگر غیر ملکی مواد دکھا سکتا ہے، وکیل پیمرانے جواب دیا کہ ہرچینل نشریات کا دس فیصد حصہ غیر ملکی مواد کے لیے مختص کر سکتا ہے۔ وکیل پی بی اے علی ظفر نے کہا کہ گیم شوز میں کوئی بات غیر اسلامی نہیں۔پیمرا نے حالیہ رمضان گائیڈ لائن عدالت کے حکم پر جاری کی۔ ٹی وی چینلز کی پروگرامنگ چار ماہ پہلے ہوتی ہے۔ اس عمل میں اشتہاری پارٹیوں سے معاہدے شامل ہوتے ہیں، سنگل بنچ کے فیصلے سے چینلزکو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کسی پروگرام میں شریک عالم کی تعلیمی قابلیت بارے کوئی پابندی ہے۔ پیمرا کے وکیل نے کہا کہ جی ایسی کوئی پابندی نہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ایک بات طے ہے کہ پیمرا ریگولیٹر ہے، جو ضابطہ اخلاق کے حوالے سے کاروائی کر سکتا ہے۔ علی ظفر نے کہا کہ سنگل بنچ کا فیصلہ قانون و آئین سے متصادم ہے،عدالت نے کہاکہ فیصلے کی وجوہات بعد میں جاری ہوں گی۔سپریم کورٹ کے حکم کے تحت وجوہات دیے بغیر آرڈر جاری نہیں ہو سکتا،اپیل کے فیصلے تک سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کیا جائے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وجو ہات سامنے آئے بغیر اور دوسرے فریق کو سنے بغیر ہم حکم امتناعی کیسے جاری کریں۔ علی ظفر نے کہا کہ پیمرا کی گائیڈ لائن پر عمل کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا حکم غیر قانونی ہے۔ پیمرا صرف عمومی گائیڈ لائن جاری کر سکتا ہے،پیمرا کوئی ایسی گائیڈ لائن جاری نہیں کر سکتا جو پروگرامنگ پالیسی پر اثر اندا ز ہو۔ رمضان ٹرانسمشن گائیڈ لائن کیس میں درخواست گزار ملک وقاص نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے چینلز پر غیر اخلاقی مواد کیخلاف 2013 میں درخواست دائر کی تھی۔رمضان کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ ایک اسلامی ملک میں چینلز پراذان کے حکم میں کوئی قباحت نہیں۔ چینلز پر چلنے والے اشتہار اور پروگرام بچوں کے سامنے نہیں دیکھے جا سکتے، اگر عدالتی احکامات پر پیمرا کو اعتراض نہیں تو چینلز کو کیا اعتراض ہے لہذا سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کی جائے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اصل ایشو یہ ہے کہ پیمرا ناکام رہا ہے، پیمرا باتیں تو بہت کرتا ہے عملی طور پر کچھ نہیں کرتا، غیر ملکی ڈرامے بہت اچھے ہوں گے،مگرہم ایک اسلامی ملک ہیں، ہم نے اپنی روایات کو دیکھنا ہے۔ پیمرا نے بطور ریگولیٹر اپنا کردار ادا کیا ہوتا تو یہ معاملات عدالت میں نہ آتے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا سنگل کورٹ کے شارٹ آرڈر کے تناظر میں کیا ہم آرڈر جاری کرسکتے ہیں جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ