قومی اسمبلی: 43.71کھرب مالیت کے 151مطالبات زر منطور

111

اسلام آباد (صباح نیوز) قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19ء میں وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کے اخراجات کے لیے 43کھرب71ارب 60کروڑ سے زاید کی مجموعی طور پر 151مطالبات زر کی منظوری دے دی گئی۔وفاقی اخراجات کی منظوری اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے جلد رخصت ہونے والی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی سے ایک سال
کے وفاقی حکومت کے اخراجات کی منظوری کو غیرقانونی قرار دے دیا اور احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ 2018-19ء کو مسترد کر دیا ہے۔ اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں نے فنانس بل 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس کی بھی مخالفت کی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے بحث میں مطالبات زر کو غیرقانونی قرار دیا پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی ان کی تائید کی۔ سید نوید قمر نے کہا کہ بجٹ کے غیرقانونی ہونے کی وجہ سے ہم احتجاجاً اپنی کٹوتی کی تحاریک سے دستبردار ہو گئے تھے۔ موجودہ حکومت آنے والی حکومت کے اختیار کو بھی استعمال کر رہی ہے۔ تمام اخراجات کی منظوری غیرقانونی ہے۔ ان کے اعلان پر اجلاس سے پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ ایم کیو ایم نے اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دیا جبکہ قومی اسمبلی نے وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کے مالی سال 2018-19ء کے اخراجات کے لیے 43کھرب 71 ارب 60کروڑ سے زائد کی مجموعی طور پر 151مطالبات زر کی منظوری دے دی گئی۔بعدازاں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی پر اجلاس آج جمعہ 10بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ