کب تک کشکول بڑا کرتے  رہیں گے ، سید خورشید شاہ 

137

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ سمجھا جائے مذاق نہ بنایا جائے، کب تک کشکول بڑا کرتے رہیں گے، ملک کا خسارہ 3ہزار
740ارب روپے ہے پاکستان کے قرضے 24 ہزار ٹریلین روپے ہو گئے ہیں، 65 سال میں پاکستان کے قرضے 14ہزار ٹریلین تھے موجودہ حکومت نے5 سال میں10ہزار ٹریلین قرضہ لیا ہے، اگر خسارا پورا کرنے کیلیے مزید قرضے لیے گئے تو پاکستان کے قرضے 28 ہزار ٹریلین تک پہنچ جائیں گے، جمہوریت کیلیے قربانی دینے والی محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام کو اسلام آباد ائرپورٹ سے ختم کر دیا گیا ہے اب اس کا نام نور خان ائرپورٹ کر دیا گیا ہے، حکومت اخلاقی لحاظ سے بجٹ پیش نہیں کر سکتی ہے ہم اس کو مسترد کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا، انہوں نے پی اے سی کی رپورٹس بھی ایوان میں پیش کر دی ہیں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پی اے سی نے 318 ارب روپے کی رقم واپس کروائی ہے یہ سارا کریڈٹ پی اے سی کو جاتا ہے، خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت نے جو فنانس بل پاس کرنے کیلیے طریقہ اختیار کیا گیا وہ درست نہیں ہے، بل پاس کریں لیکن اخلاقی طور پر حکومت فنانس بل پاس نہیں کر سکتی حکومت کا رویہ قابل افسوس ہے میں سب کو رمضان کی مبارک باد دیتا ہوں، ایوان میں10:30بجے سے اراکین اسمبلی آئے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی ارکان اسمبلی میں موجود نہیں ہے،

Print Friendly, PDF & Email
حصہ