امریکا نے کرنل جوزف کیخلاف کاروائی کی یقین دہانی کرائی ہے،دفتر خارجہ 

84

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں)دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکی سفارتکاروں کو سابق حکومتوں کی جانب سے گئی رعائتیں موجودہ حکومت نے واپس لی ہیں، امریکی سفارتکار کرنل جوزف سفارتی استثنا کے تحت واپس چلے گئے، دیت دینے کا کوئی علم نہیں، امریکا نے کرنل جوزف پر مقدمہ چلانے کی یقین دہانی کرائی ہے،نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان پر تشدد کی پر زور مذمت اور اس معاملے پر او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس طلب کرنے کی حمایت
کرتے ہیں، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی آج او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوں گے، پاکستان ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ایران کے ساتھ رابطے جاری رکھے گا اور تہران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرے گا، بھارتی میڈیا پاکستان کے حوالے سے معاملات کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے، نئی دہلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات کے لیے او آئی سی فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے، بھارت کا بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام یورپ، چین سمیت عالمی برادری کے لیے باعث تشویش اوربھارتی پالیسیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران امریکی سفارتکار سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکی سفارتکار کرنل جوزف کو سفارتی استثنا حاصل تھا اور وہ واپس چلے گئے ہیں، دیت دینے کے معاملے کا کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتکار کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی بلکہ موجودہ حکومت نے امریکی سفارتکاروں کو سابق حکومتوں کی جانب سے دی گئی رعایتیں واپس لی ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی اورامریکی سفارتکاروں پر نقل وحرکت سے متعلق پابندیاں نافذالعمل ہوچکی ہیں اور اب دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کو 25 مربع کلو میٹر کی حدود سے باہرسفر کے لیے پیشگی اجازت لینا ہو گی۔ ترجمان نے امریکی سفارتخانے کی القدس منتقلی کے بعد اسرائیلی فورسز کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان پر تشدد کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ اس معاملے پر پوری امت مسلمہ متحد ہے۔ انہوں نے ترکی کی جانب سے اس معاملے پر او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس طلب کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی آج او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر یقین رکھتا ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستانی فنکاروں اور ادبی شخصیات کو اجازت نہ دینے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ فیض احمد فیض کی بیٹی منزہ ہاشمی کو بھارت بلا کر محصور کرنا اور انہیں خطاب کی اجازت نہ دینا قابل مذمت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ ہماری روایات کے برعکس عمل ہے۔ بھارتی فنکار اور ادبی شخصیات بھی پاکستان آتی رہتی ہیں لیکن ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔ بھارتی آئی سی بی ایم پروگرام سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت کا بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام یورپ، چین سمیت عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہے۔ بھارتی پالیسیوں سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان صبر و تحمل کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملکی دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں