نواب شاہ ، نوابشاہ تالابوں میں آلودہ پانی شامل ہونے لگا

114

نواب شاہ (نمائندہ جسارت) سیکرٹری پبلک ہیلتھ ریاض احمد میمن کی زیر صدارت واٹر فلٹر پلانٹ، واٹر سپلائی اسکیموں اور ڈرینیج ڈسپوزل کے فعال، غیرفعال اور مشینری وغیرہ کی سروے کے حوالے سے ایک تربیتی اجلاس دربارہال میں منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف انجینئر پبلک ہیلتھ شمس الدین شیخ، ڈپٹی کمشنر بینظیر آباد نعمان صدیق لاٹکی، ایڈیشنل کمشنر حق نواز شر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سانگھڑ، بینظیرآباد اور نوشہروفیروز کے علاوہ تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنران، لوکل گورنمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری پبلک ہیلتھ ریاض احمد میمن نے کہا کہ محکمے کی جانب سے واٹر کمیشن کی ہدایات پر کے ایم سی اور واسا کے علاوہ سندھ بھر میں حکومت سندھ، وفاق، سرکاری اداروں کی جانب سے لگائے جانے والے فلٹر پلانٹ، واٹرسپلائی اسکیموں اور ڈرینج ڈسپوزل کی صورتحال کا سروے کیا جارہا ہے، جس کے لیے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنران اپنے اپنے اضلاع میں سروے کے انچارج ہوں گے جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنے تحصیلوں میں واٹر فلٹر و آر او پلانٹس، واٹر سپلائی اور ڈرینج کی اسکیموں کا جائزہ لے کر اسکیم کے فعال، غیر فعال، مشینری، عملے ودیگر صورتحال کی مکمل رپورٹ دیں گے، پروفارمہ پر روزانہ کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کرائیں گے اور 14 مئی تک اس سروے کو مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سروے سے معلوم ہوسکے گا کہ کتنے واٹرفلٹرپلانٹس صحیح طور پر کام کررہے ہیں جبکہ بند یا خراب واٹر فلٹرپلانٹس کی وجوہات معلوم ہوسکے گی تاکہ ان خرابیوں کو دور کرکے عوام کو صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی سہولیات پہنچائی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی اسکیموں پر ٹرانسفارمر نہ ہونے، عملے کا تقرر نہ ہونے کے علاوہ دیگر چھوٹی چھوٹی وجوہات پر کروڑوں کی اسکیمیں بند پڑی ہیں۔ سیکرٹری پبلک ہیلتھ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 3306 آراو پلانٹس کی منظوری دی گئی تھی جن میں سے 2286 آراو وفلٹرپلانٹس لگائے گئے ہیں جن میں سے کئی آراو پلانٹس نہ چلنے کی وجہ سے عوام پینے کا خراب پانی استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ واٹرکمیشن کی جانب سے سندھ بھر میں دوروں اور رپورٹس لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ صوبے میں 729 ڈرینج آؤٹ لیٹ کا خراب پانی بغیر ٹریٹ منٹ کے نہروں میں جارہا ہے جس کی وجہ سے پینے کے پانی کے ذخائر میں کمی ہورہی ہے، ہماری ترجیح ہے کہ ان آؤٹ لیٹ کا پانی ٹریٹ منٹ کرکے نکاس کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نئی ایس این ای منظور ہوگئی ہے اور تمام جلد 300 انجینئرز ودیگر ملازمین بھرتی کیے جائیں گے جبکہ فوری طور پر ان اسکیموں کو چلانے کے لیے واٹرکمیشن کی ہدایت پر متعلقہ ٹاؤن ومیونسپل کمیٹیوں سے عملہ لیا جارہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ