شامی بحران میں میڈیا کا کردار

205

احسن اختر
’’شام‘‘ عالم اسلام کے لیے ایک رستا ہوا ناسور بن گیا ہے۔ یہاں کے حالات پر ہر حساس انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اقوام متحدہ، عرب لیگ اور دنیا کے بااثر ممالک سب مل کر سرزمین شام کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ عالمی میڈیا بھی حالات کی صحیح تصویر لوگوں تک نہیں دکھاتا۔ پاکستانی اخبارات میں بھی حالات کا تجزیہ جانبداری سے کیا جاتا ہے۔ اگر لکھنے والا شیعہ ہو تو بشارالاسد کا حامی اور اگر سنی ہو تو بشار مخالف نظر آتا ہے۔ میرے خیال میں حالات کا درست تجزیہ اور خرابیوں کی نشاندہی کرنا بے حد ضروری ہے۔ 28 فروری بدھ کو روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی میں ’’شام میں بہتا لہو اور میڈیا کی حساسیت‘‘ کے عنوان سے کالم زیر مطالعہ رہا۔ کچھ سوالات ذہن میں پیدا ہوئے۔ سب سے بڑا دشمن بشارالاسد کو قرار دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی بھی ملک میں دوسرے غیر ممالک کی مدد سے اس ملک کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مسلح جھتے ترتیب دیے جائیں جو اس ملک کے شہروں پر قبضہ بھی کرلیں تو اس ملک کی انتظامیہ اپنے شہروں کو آزاد کرانے کے لیے کیا کرسکتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں اور سوات جیسے شہر میں حکومتی رٹ نافذ کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو کیا کرنا پڑا؟
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ ’’سعودی شاہی حکومت‘‘ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے امریکا اور اسرائیل کے تعاون سے سعودی حکومت کے مخالف جیسے ایرانی، لبنان، قطر، یمن ایسا ہی کریں جیسا ’’شام‘‘ میں دیگر ممالک نے کیا۔ تو کیا سعودی حکومت ایسا نہیں کرے گی جیسا بشارالاسد کررہا ہے۔ ’’حزب اللہ شیعہ ریاست قائم کرنا چاہتی ہے‘‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لبنان جہاں حزب اللہ کا سب سے زیادہ اثر رسوخ ہے کیا وہاں حزب اللہ نے شیعہ ریاست قائم کرلی۔ یا وہاں کے آئین کے مطابق اس ملک کے نظام کے تحت کام کررہی ہے۔ جہاں آئین کے تحت صدر، وزیراعظم اور دیگر عہدے عیسائی، شیعہ اور سنی مسلک میں تقسیم کردیے جاتے ہیں۔ کیا امریکا نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا؟۔ کیا عرب اسرائیل جنگوں میں حزب اللہ کا کردار کسی بھی مسلمان ملک سے کم رہا؟ کیا لبنان اسرائیل کے درمیان ہونے والی دونوں جنگوں میں حزب اللہ نے اسرائیل کو شکست نہیں دی اور اپنا علاقہ اسرائیل سے آزاد نہیں کرایا۔ ہمارے سنی حماس اور شیعہ حزب اللہ دونوں عالم اسلام کی آنکھیں ہیں۔ ان دونوں آنکھوں سے امریکا اور اسرائیل خائف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں ان دونوں آنکھوں پر ہم ان کی عینک لگا کر دیکھیں اگر وہ کسی کو دہشت گرد کہیں تو ہم بھی اس کو دہشت گرد کہیں۔ اگر وہ صدام حسین پر کیمیاوی ہتھیار رکھنے کا الزام لگائیں تو پوری دنیا کو بھی یہی نظر آئے چاہے وہ سراسر جھوٹ کیوں نہ ہو۔
اسرائیل کے ہمدرد لڑکی کو سزا دینے کے لیے کرد ریاست کی داغ بیل ڈالنا چاہتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملک جیسے ترکی اگر اپنی اقلیت کو مطمئن رکھتا ہے تو کیا اس ملک کو کوئی سزا دینے کے لیے اس کے ٹکڑے کراسکتا ہے؟ اگر ہم اپنی مشرقی پاکستان کی اکثریت کو مطمئن رکھتے تو کیا وہ ہم سے الگ ہوتے۔ امریکا جیسے ملک میں جہاں درجنوں ریاستیں مختلف نسلی اکائیوں کے ساتھ ایک وفاق کا حصہ ہیں کیا اگر وہ مطمئن ہیں تو کیا ان کو کوئی طاقت الگ کراسکتی ہے۔ ’’شام‘‘ کے تناظر میں یہاں ایسا کچھ نہیں۔ یہاں معاملہ ایسا ہے کہ اگر پڑوس میں آگ لگاؤ گے تو تمہارا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا کا معاملہ ہے۔ صدر اوباما کے دور کے اخبارات اٹھا کے دیکھ لیں کس طرح ترکی کی زمین بشار مخالف ملیشیاؤں کی تیاری کے لیے استعمال ہوئی۔ سعودی، امریکی اور ترکی کے ماہرین کی زیر نگرانی شام کو برباد کرنے کے لیے پوری دنیا سے اسی طرح لوگ بلوائے گئے جیسا پاکستان اور افغانستان میں آئے۔
عراق اور لیبیا کو برباد کرنے میں دیگر ممالک کی طرح ترکی کا کردار دیکھیں سمجھ میں آجائے گا جب صدام اور قذافی ناجائز ہیں اور ان کے ملک میں کردوں کو الگ خطہ دینا جائز ہے تو ترکی میں بھی جائز ہی قرار پائے گا۔ ’’شام‘‘ کی 90 فی صد آبادی سنی مسلمانوں کی ہے بشارالاسد کے ساتھی 10 فی صد سے بھی کم ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں شیعہ سنی کا مسئلہ یا قبیلہ و نسل کا مسئلہ یا ان کی تعداد کا مسئلہ اسلام دشمنوں کے نزدیک اہمیت رکھتا ہے کہ وہ اس کو اُٹھا کر کہیں کہ اقلیت نے اکثریت پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔
اس کی مثال یہ لیں کہ عراق کا صدام حسین سنی مسلمان تھا لیکن اس ملک کی اکثریتی آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی تھی، اس نے اپنے دور حکومت میں شیعہ اکثریت کو مطمئن رکھا۔ اُن کے متبرک مقامات عراق میں تھے، تمام دنیا سے شیعہ زائرین وہاں آتے کوئی مسئلہ نہ تھا۔ صدام حسین (سنی) کا مسئلہ کردوں (سنی) سے ہوا۔ اس کے دور میں ان سنی مسلمان کردوں پر مظالم بھی ہوئے۔ معمر قذافی لیبیا کے ایک نسبتاً کم تعداد کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اس نے لیبیا کے کثرت القبائل معاشرے کو کامیابی سے متحدہ رکھا۔ اسی طرح شام بھی سنی اکثریت اور شیعہ اقلیت کے ساتھ ایک کثیر المعاشرتی ملک ہے۔ یہاں عیسائیوں کی بھی ایک تعداد بستی ہے۔ بشارالاسد تو علوی یا جس بھی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتا ہے اس کے عقائد سے تو شیعہ بھی متفق نہیں۔ شاید مسلمانوں میں گمراہ ترین فرقوں میں سے اس کا ایک فرقہ ہے جس کے نزدیک انسانوں کو سجدہ بھی جائز ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ اصل میں شیعہ سنی کا نہیں میرے نزدیک یہ امریکا اسرائیل اور ان کی زیر سرپرستی عالمی میڈیا کا پروپیگنڈہ زیادہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ امریکا، سعودیہ، اسرائیل، ترکی، اردن، امارات اور یورپی ممالک اور سنی مکتبہ فکر ایک قطار میں اور روس، چین، ایران، حزب اللہ، اینٹی امریکا ممالک جیسے وینزویلا، شمالی کوریا اور ان کے ساتھ شیعہ مکتبہ فکر ایک قطار میں نظر آتے ہیں۔ یہ ایک جنگی پلان ہے جس کو عالمی صہیونیت نے ترتیب دیا ہے کہ اپنے اصل دشمن اسلامی دنیا کو کمزور تر کرنا۔ اپنے ملک اسرائیل کے ہمسایہ ممالک میں افراتفری پیدا کرنا اور ان میں عدم استحکام پیدا کرنا تا کہ جب یہود مسلمانوں پر حملہ کریں تو ان کا راستہ روکنے والا کوئی نہ ہو۔ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو علم سے دور کرکے ان کو تفریق میں مبتلا کردینا جنگ وجدل کا شائق بنادینا۔ ان کی آبادی کم کرنا ’’کسی چھوٹے سے حصے پر بشارالاسد کو بھی قائم رکھنا مقصود ہے۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ روس کی مدد سے بشار کی فوجوں نے اپنے ملک کے کافی علاقوں پر قبضہ مستحکم کیا ہے۔ کرد علاقہ جہاں امریکا کی مدد سے کردوں نے قبضہ کیا ہے اس کے علاوہ کافی شہر ایسے ہیں جہاں حکومت کی رٹ قائم ہوئی ہے۔ دس لاکھ شامی مسلمان شہید ہوچکے، کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے، لاتعداد بچیاں اور عورتیں اغوا ہو کر یورپ میں غلامی کی زندگی بسر کررہی ہیں۔ روسی اور بشار الاسد کے طیارے باغیوں کے محصور علاقوں پر روز بمباری کرتے ہیں، عالمی میڈیا روز دکھاتا ہے کہ بچے اور عورتیں زخمی و شہید ہورہے ہیں۔ کیمیاوی ہتھیار بھی یقیناًاستعمال ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی غور طلب ہے کہ آخر کس نے کیے۔ بشار انکاری ہے، باغی بھی انکاری ہیں، جب بشار کے زیر قبضہ علاقوں میں کار بم پھٹتا ہے تو وہ نہیں دیکھتا کہ بچہ یا عورت اس کی زد میں آرہا ہے جب باغی نعرے لگاتے ہوئے حملے کرتے ہیں تو ان کے بم اور گولیاں نہیں دیکھتیں کہ کس بچے کو لگا۔ یمن میں جب سعودی و اتحادی طیارے آگ کی بارش برساتے ہیں تو پتا نہیں کس کس کا خون بہتا ہے۔ مصر کے اندر اخوان پر جب مظالم ہوتے ہیں تو کچھ پتا نہیں چلتا۔ افغانستان میں ایٹم بم سے کہیں زیادہ مہلک بم استعمال ہوا کیا کوئی تصویر آئی؟ سوشل میڈیا پر کوئی ویڈیو آئی، ہمارا میڈیا ہو یا عالمی بکاؤ میڈیا سب ذوق شوق سے پہلے ’’حلب‘‘ اور اب ’’مشرقی غوطہ‘‘ کے مناظر دکھاتے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے۔ سچائی ہے لیکن میڈیا کا مسئلہ وہی عینک ہے جو ہم دکھانا چاہتے ہیں وہ دیکھو اور اپنی رائے بناؤ۔
امریکا، سعودیہ، ترکی، فرانس، اسرائیل وغیرہ سب کا اتفاق ہے کہ ’’بشار‘‘ غاصب ہے، اس کو اُتار دو۔ درست مان لی یہ بات، لیکن اگر اس کو اُتار بھی دیا جائے تو کیا یہ ملک عدم استحکام کا شکار نہیں ہوگا۔ جیسے لیبیا جغرافیائی طور پر 3 حصوں میں تقسیم ہے۔ عراق کے بھی حصے بخرے کردیے گئے ہیں۔ افغانستان جہاں صرف سات مجاہد تنظیمیں تھیں ایک ساتھ نہ رہ سکیں، یہاں تو پچیس کے قریب گروہ ہیں جو مختلف نظریات، رنگ و نسل اور مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں۔ یہاں بشار کے مخالف فوجی افسران ’’فری سیرینی آرمی‘‘ بنا کر علاقے قبضے کیے ہوئے ہیں اور النصرہ جیسے گروپ بھی ہیں جو القاعدہ کے زیر اثر ہیں۔ داعش کے حمایت یافتہ الگ اور وہ کرد الگ جو امریکا کے حمایتی ہیں اور وہ کرد الگ جو ترکی کے حمایتی ہیں۔ ان دونوں کے مخالف کرد الگ الگ اپنی تنظیمیں بنائے بیٹھے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ راقم ہرگز بشار حامی یا شیعہ مسلک کا حامی نہیں ہے لیکن یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بشار الاسد نے حماس کے دفاتر ’’دمشق‘‘ میں کھلوائے، ایک عرصے تک حماس کے سربراہ خالد المشعل جو ایک سنی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں ان کو پناہ دی۔ حماس کی دامے درمے و سخنے مدد کی۔
یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ حالیہ دنوں میں ماضی قریب میں بشار الاسد کے فوجی اڈوں پر اسرائیل نے حملے کیے، فروری 2018ء میں اسرائیل کا ایف سولہ طیارہ بھی بشار کی فوجوں نے گرایا ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ امریکی فوجوں نے کرد شامی علاقے میں ضروری 2018ء میں بشار کی فوج پر حملہ کیا اور 200 کے قریب شامی بشار کے فوجی جاں بحق ہوئے۔ درج بالا تین باتوں سے یہ ایک بات سمجھ میں آنا چاہیے کہ شام کا مسئلہ بنیادی طور پر شیعہ سنی مسئلہ ہرگز نہیں، بشار کے فوجی عہدیداروں اور اہلکاروں میں سنی بھی شامل ہیں۔ جیسے عراق کے صدر صدام حسین کا وزیرخارجہ طارق عزیز عیسائی تھا اور اس کی فوج اور حکومت میں شیعہ و سنی دونوں شامل تھے۔ اسی طرح شام کے انتظامی ڈھانچے میں تمام لوگ شامل ہیں۔ جب ہمارے پاکستانی میڈیا میں لکھاری معاملات کی گہرائی میں جائے بغیر ایران اور سعودی ملکی جنگ میں شریک ہوجاتے ہیں تو وہ اصل میں اُمت میں اختلافات پیدا کرنے میں عالمی میڈیا کی سازشی مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ’’شام‘‘ کا بحران حل ہونے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن یہ بحران ہمیں اور پوری دنیا کے مسلمان ممالک کے عوام اور حکمرانوں کو سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم کس طرح اپنے ملکوں کو ’’دوسرا شام‘‘ بننے سے روک سکتے ہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے اس میں بات پھر کبھی سہی۔
اور جوتا چل گیا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ