گردن حسین اور ووٹ کی اہمیت

206

ڈاکٹر وسیم علی برکاتی
ووٹ آپ کے پاس ایک مقدس امانت ہے۔ آپ کا ایک ووٹ کسی بھی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ آج رات کو ہر شہری محل کے کنویں میں ایک بالٹی دودھ ڈالے گا۔ ہر شہری نے یہ سوچ کر کہ پورا شہر ہی ایک بالٹی دودھ ڈالے گا اور اگر میں دودھ کی ایک بالٹی نہیں ڈالوں گا تو کیا فرق پڑے گا۔ یہ سوچ کر پورا شہر ہی سوتا رہا اور کسی ایک نے بھی دودھ کی ایک بالٹی کنویں میں نہیں ڈالی۔ صبح جب بادشاہ سلامت پور ے لشکر اور جاہ و جلال کے ساتھ دودھ سے بھرے کنویں کو دیکھنے کے لیے پہنچے تو کنواں دودھ تو کیا پانی سے بھی یکسر خالی ملا۔ آج ہمارا ووٹ بھی دودھ کی اسی بالٹی کی طرح ہے کہ جس کے ایک غلط استعمال کی وجہ سے پوری پاکستانی قوم کو وہ کون سی اذیت اور عذاب ہے کہ جو نہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ خوف و دہشت کا عذاب، ڈاکو سے بچو تو پولیس کے نرغے میں پھنس جانے کا ڈر، کھلے عام ڈکیتیاں اور رہزنی، سر عام پولیس کا عام شہری کو روک کر جیبیں خالی کردینا، ہر روز پٹرول کی قیمتوں کا بڑھ جانا، اسکول اور تعلیمی اداروں کی بڑھتی ہوئی فیسیں، مہنگائی کا عفریت، عوام کی امانتوں میں خورد برد اور چوری۔ جب آپ کا ووٹ کسی با کردار انسان کے بجائے ’’گٹر کا ڈھکن چور‘‘ کے لیے استعمال ہوگا تو منتخب ہوکر وہی ’’گٹر کا ڈھکن چور‘‘ آپ کی جیبوں، آپ کی تجوریوں اور حتیٰ کہ آ پ کے حقوق تک غضب کرلے گا۔
ہم ہر سال عید الضحیٰ بڑے ہی جوش و خروش اور نمود و نمائش کے ساتھ مناتے ہیں کہ اللہ نے سیدنا ابراہیم ؑ سے بیٹے کی قربانی مانگ لی کہ اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کو اللہ کی حکم سے ذبح کردیں۔ لیکن اللہ کی خوشی کسی انسان کا خون لے کر کیسے ہوسکتی تھی۔ لہذٰا اللہ نے ایک معجزہ کیا اور جبرائیل ؑ کو چشم زدن میں زمین پر ایک مینڈھے کے ساتھ بھیجا کہ اس کی قربانی کی جائے۔ لیکن اللہ حق ہے، حق کے ساتھ ہے، حق کو پسند کرتا ہے، حق کے خاطر جان دینے کو پسند کرتا ہے۔ جب بات حق کی آئی تو اللہ نے اپنے محبوب رسول ؐ کے لخت جگر کی قربانی قبول کی۔ اسماعیل ؑ کی قربانی بدل کر اللہ نے مسلمانوں کی عید بنا دی۔ اور حسینؓ کی قربانی لے کر تا قیامت حق و صداقت کے لیے جان دینے کو انسانوں اور مسلمانوں کے لیے ایک زندہ مثال بنا دی۔ ایک ووٹ کا معاملہ ہی تو تھا۔ ایک حسینؓ کا ووٹ۔ بیعت کر لیتے یزید کی، مکہ کی گورنری لے لیتے۔ مال و دولت، زر و جواہر لے لیتے۔ لیکن حسینؓ نے اپنے پورے خاندان کو آواز حق بنا دیا۔ لیکن اپنی گواہی کو حق کے خلاف استعمال نہیں کیا۔ حسینؓ نے گردن کٹوالی، خاندان اور بچوں کی قربانی دی۔ لیکن حق و دیانت کے خلاف عمل نہیں کیا۔ اور جنت میں نوجوانوں کے سر دار بن گئے۔ لیکن یزید کی خلافت بھی کتنے دن قائم رہی اور پھر موت نے تو اسے بھی جکڑ لیا۔ دنیا کی حقیقت چند لمحوں کی ہے اور اس کے نتیجے میں آخرت کی نتائج دائمی ہیں۔ حسینؓ نے تو ووٹ کے تقدس و اہمیت کو جان دے کر امر کردیا۔ لیکن ہمار ے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ووٹ کس طرح بک رہا ہے۔ اس کی مثال حالیہ سینیٹ کے الیکشن میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ نظر آئیں۔ امریکا کی ایجاد کردہ ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح جو واقعتا گھوڑوں کی خرید و فروخت کے لیے ہی استعمال ہوتی تھی اور
اس کے لیے ہر جھوٹ اور بے ایمانی کا سہارا لیا جاتا تھا۔ آج ہمارے یہاں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کو خریدنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس دفعہ مارچ 2018 کے سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ کی خرید و فروخت پر تیس ارب روپے کے قریب خرچ ہوئے ہیں۔ سینیٹ کی 104نشستوں کے لیے ووٹ خریدے گئے۔ اور منہ مانگے داموں ووٹوں کی خرید و فروخت ہوئی۔ سینیٹ کے چیئر مین کے انتخات کے لیے 53ووٹ چاہیے۔ اس ضمن میں کہا یہ جارہا ہے کہ کامیاب ہونے والے آزاد امیدوارکی چاندی ہوگئی ہے۔ اور ان کے لیے منہ مانگی قیمت دی گئی۔ جس بھی پارٹی کا سینیٹ چیئرمین بنے گا اس کے لیے اپنے مفادات میں قانون سازی کرنا آسان ہوجائے گا۔ اس کے باوجود کہ ملک کے سابقہ وزیر اعظم کو عدالت نا اہل قرار دے چکی ہے۔ لیکن موصوف اپنے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ اور کسی بھی غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے۔ عدلیہ کو ہی مورد الزام ٹھیرا رہے ہیں۔ نہ کوئی شرمندگی نہ کوئی ندامت۔ حد تو یہ ہوگئی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف جب مدرسہ نعیمیہ لاہور میں اتوار کے روز خطاب کررہے تھے تو ایک شخص نے انہیں جوتا بھی دے مارا۔ اسلام کی تاریخ ہے کہ لوگ عہدے کو ذمے داری اور امانت سمجھتے تھے۔ اور اس کی بابت اللہ کے حضور خود کو جواب دہ سمجھتے۔ لیکن ہمارے ملک میں کوئی استعفا دینا پسند ہی نہیں کرتا۔ خواجہ آصف پر خطاب کے دوران ایک شخص نے سیاہی اچھال تھی۔ جس سے ان کا چہرہ کالا ہوگیا۔
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ