نیب کا بلین ٹری منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کا فیصلہ

365

اسلام آباد،لاہور(نمائندہ جسارت +اے پی پی + آن لائن)قومی احتساب بیورو(نیب)نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے افسران کیخلاف ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کے مبینہ غیر قانونی تقرر اوربلین ٹری سونامی منصوبے میں مبینہ خوردبرد پر خیبرپختونخوا حکومت کی متعلقہ اتھارٹی کیخلاف شکایات کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کی زیر صدارت اجلاس نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیب میں جاری راولپنڈی، اسلام آباد میں غیر قانونی طور پر قائم نجی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کیخلاف متعلقہ اداروں، سی ڈی اے، آر ڈی اے اور آئی سی ٹی کی طرف سے غیر قانونی طور پر قائم نجی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف کارروائی خصوصاً عوام کی لوٹی گئی رقم کی واپسی کی صورتحال اور نیب میں غیر قانونی نجی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کیخلاف جاری انکوائریوں اور انویسٹی گیشن پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب راولپنڈی کو ہدایت کی کہ عوام کی عمر بھر کی لوٹی گئی جمع پونجی کی واپسی نہ صرف یقینی بنانے میں قانون کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں بلکہ نیب میں جاری تمام انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو بروقت مکمل کرکے بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔ چیئرمین نیب نے سی ڈی اے،آر ڈی اے اور آئی سی ٹی کوہدایت کی کہ وہ سادہ لوح عوام کو غیر قانونی نجی اور کوآپریٹو ہاؤ سنگ سوسائٹیز کے متعلق نہ صرف بروقت آگاہی فراہم کریں تاکہ وہ کسی بھی قسم کی دھوکا دہی کا شکار نہ ہوں۔چیئرمین نیب نے سی ڈی اے،آر ڈی اے اور آئی سی ٹی کو ہدایت کی کہ راولپنڈی، اسلام آباد میں قائم نجی اور کوآپریٹو ہاؤ سنگ سوسائٹیز کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر بھی لگائیں۔ چیئرمین نیب نے عوام سے بھی کہا کہ وہ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی صرف قانون کے مطابق قائم نجی اور کوآپریٹو ہاؤ سنگ سوسائٹیز میں پوری تسلی و اطمینان کے بعدلگائیں۔علاوہ ازیں احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکیخلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں ملزمان کے وکیل کی فرد جرم عاید نہ کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت کی۔نیشنل بینک کے صدر سعید احمد سمیت 3 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ ملزم نعیم محمود اور منصور رضا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں 700 سے زائد صفحات مبہم ہیں لہٰذا فرد جرم عاید نہ کی جائے اورضمنی ریفرنس کا جائزہ لینے کے لیے وقت دیا جائے۔نیب پراسیکیورٹر نے ملزمان کے وکیل کی استدعا کو تاخیری حربہ قرار دیا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔دوسری جانب نیب لاہور کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے حوالے سے لیب ٹاپ اسکیم اسکینڈل بھی منظر عام پر آگیا ہے، اس اسکینڈل کا انکشاف ایل ڈی اے کے افسران و ملازمین میں تقسیم کیے گئے لیب ٹاپ کے حوالے سے جاری کی گئی ایک آڈٹ رپورٹ میں کیاگیا ہے،جس میں سفارش کی گئی ہے کہ اس معاملے کی انکوائری نیب لاہور کے ذریعے کرائی جائے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق سابق ڈی جی نے ڈیڑھ ارب سے زائد مالیت کے لیب ٹاپ خریدے جبکہ من پسند فرم کو نوازنے کیلیے ایک ارب 65 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ طور پر اضافی ادائیگی کر دی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ