شامی فوج کی پیش قدمی، غوطہ تین حصوں میں تقسیم 

186
دمشق: شام کے کرد اکثریتی علاقے عفرین میں ترک فوج کی پیش قدمی کے بعد حامی ملیشیائیں داخل ہو رہی ہیں
دمشق: شام کے کرد اکثریتی علاقے عفرین میں ترک فوج کی پیش قدمی کے بعد حامی ملیشیائیں داخل ہو رہی ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں ملکی فوج کے حملے جاری ہیں۔ شامی مبصرین برائے انسانی حقوق کے مطابق بشار الاسد کی فوج نے غوطہ کے سب سے بڑے شہر دوما کے راستے منقطع کردیے ہیں جبکہ فورسز نے خطے کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی فورسز نے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران شامی اور روسی افواج کے فضائی اور زمینی حملوں میں ایک ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق شامی حکومت کی حکمت عملی بڑی واضح ہے جس میں مشرقی غوطہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہاں موجود مزاحمت کاروں کی حمایت اور رسد کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے اور حکومت کو اب بظاہر اس مقصد میں کامیابی حاصل ہو گئی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے وسطی شہر مصرابا پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب شہر کے اطراف میں واقع کھیتوں پر قبضے کے لیے کارروائی جاری ہے ۔ مصرابا اس اہم شاہراہ پر واقع ہے جو مشرق میں واقع شہر دوما کی طرف جاتی ہے اور ساتھ ہی مغرب میں بڑا شہر حرستا واقع ہے ۔

اگر غوطہ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس صورت میں دوما اور اس کے ملحقہ شہر مغرب میں ہوں گے جبکہ باقی علاقے جنوب میں تقسیم ہو جائیں گے۔ دوسری جانب ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں امدادی اداروں کی جانب سے خوراک پہنچنا شروع ہو گئی ہے تاہم علاقے پر شامی فوج کے حملوں کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ۔

امدادی ادارے ریڈ کراس کے 13 ٹرک سامان لے کر مشرقی غوطہ پہنچے اور بمباری کے باوجود امدادی اشیا تقسیم کی گئیں۔ جنگی صورتحال پر نظر رکھنے والے شامی ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ