فرانسیسی صدر بھارت پہنچ گئے ،دفاعی معاہدہ طے 

131
نئی دہلی: فرانسیسی صدر عمانوئیل میکروں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مصافحہ کررہے ہیں
نئی دہلی: فرانسیسی صدر عمانوئیل میکروں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مصافحہ کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت اور فرانس نے ہفتے کے روز ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ملک تعاون کو فروغ دیں گے۔ سمجھوتے کے مطابق دونوں ملک ایک دوسرے کے جنگی جہازوں کے لیے اپنے بحری اڈے کھول دیں گے۔ نیو دہلی میں واقع تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ایک ماہر کے مطابق تمام سرمایہ کاری دراصل تجارتی نہیں بلکہ دفاعی سرمایہ کاری بھی ہے ، اور اس کے پیچھے دیگر مقاصد بھی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی بحر ہند میں بڑی مستقل موجودگی ہے اور بھارت کو ری یونین جزیرے اور مڈغاسکر کے قریب افریقی ملک جبوتی میں واقع اپنے فوجی اڈوں تک رسائی دے سکتا ہے۔ قبل ازیں فرانس کے صدر عمانوئیل میکروں جمعہ کے روز بھارت کے 4 روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچے ہیں۔ یہ ان کا 2017ء میں صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے میکرون کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا اور اپنے روایتی انداز میں بغل گیر ہوئے ۔ نئی دہلی میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں فرانسیسی صدر میکروں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یورپ میں بھارت کا بہترین پارٹنر فرانس کو ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں میں جمہوریت قائم ہونے کے ساتھ باہمی ربط بھی موجود ہے اور یہی پہلو دونوں ملکوں کے تاریخی تعلقات کو مزید کامیابی سے نوازیں گے ۔ بھارتی وزیراعظم نے اس موقع پر تجارتی روابط کے ساتھ مشترکہ سیکورٹی کو بھی اہم قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فرانسیسی صدر کے بھارتی دورے کے موقع پر سلامتی کے معاملات کے ساتھ ساتھ توانائی کو بھی فوقیت حاصل رہے گی۔ فرانسیسی صدر عمانوئیل میکروں دورے کے دوران آج شمسی توانائی کی ایک اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ شرکت کریں گے۔ بعد ازاں فرانسیسی صدر پیر کے روز ورانسی (سابقہ بنارس) بھی جائیں گے۔
فرانسیسی صدر

Print Friendly, PDF & Email
حصہ