میئر کراچی ناکام ، بلدیہ عظمی میں تاریخ کا بد ترین مالی و انتظامی بحران

731

کراچی ( رپورٹ ، محمد انور ) بلدیہ عظمی کراچی تاریخ کے بدترین مالی و انتظامی بحران میں داخل ہوچکی ہے۔میئر وسیم اختر سیاسی اور دیگر وجوہات کی بنا پر فوری اور سخت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے ناکام ترین سربراہ کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔ نمائندہ جسارت کی جانب سے بلدیہ کراچی کے امور کا آزادانہ جائزہ لینے سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ ان دنوں ادارے کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔اگرچہ کے ایم سی کا پورا نظام منتخب کونسل جس کے سربراہ میئر کراچی وسیم اختر ہیں کے کنٹرول میں ہے مگر ایسا تاثر ملتا ہے کہ کسی منتخب شخصیت اور ماسوائے انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے کسی ذمے دار افسر کو ادارے کے کسی بھی معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ منتخب ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد وہرا پی ایس پی میں شامل ہونے کی وجہ سے غیر فعال ہوچکے ہیں تاہم کے ایم سی کونسل ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لاسکی تاہم ایم کیو ایم پاکستان نے الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہوئی ہے کہ ڈاکٹر ارشد وہرا نے چونکہ وفاداری تبدیل کرلی ہے اس لیے انہیں ڈپٹی میئر کی حیثیت سے ڈی سیٹ کیا جائے۔ اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان میں گروپ بندی کی وجہ سے متعدد یوسی کے چیئرمین اور کے ایم سی کونسل کے ارکان کی وابستگیاں بھی غیر واضح ہیں جس کی وجہ سے میئر وسیم اختر کے خلااف خواہش کے باوجود عدم اعتماد کی تحریک بھی نہیں لائی جارہی۔ جائزے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ چونکہ کے ایم سی کے بیشتر افسران کا تعلق ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں اور پی ایس پی سے ہے اس لیے وہ خود غیر یقینی کا شکار ہو کر کے ایم سی کے فرائض ادا کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ انہیں یہ یقین ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کو جب میئر نے اچانک صبح 9 بجے ہیڈ آفس کا دورہ کیا تو کئی محکموں میں چھٹی کا سماں تھا صرف 4 دفاتر میں چند افسران موجود تھے، یہ صورتحال دیکھنے کے باوجود میئر کوئی سخت قدم اٹھانے کے بجائے صرف شرمندگی کی مسکراہٹ کے ساتھ وارننگ دے گئے۔جائزے سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کے ایم سی کے کسی محکمے نے مالی سال2017-18ء کے9 ماہ گزرنے کے باوجود ہدف کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 26 فیصد وصولیابی کی جبکہ اس کے برعکس پورے کے ایم سی میں کرپشن کی سطح 90 تا 96 فیصد تک پہنچ گئی۔ کرپشن کے ساتھ مصنوعی کارکردگی دکھانے میں سب سے آگے محکمہ لینڈ اینٹی انکروچمنٹ ہے جس کا او پی ایس کی بنیاد پر تعینات سینئر ڈائریکٹر کھلے عام ماتحت افسران سے رشوت کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ موقف اختیارکرتا ہے کہ’’ مجھے بھی شام کو بھوک لگتی ہے‘‘۔ کے ایم سی میں بد انتظامی کے نتیجے میں محکمہ فنانس و اکاؤنٹس ، اسپورٹس و کلچر ، فائر بریگیڈ ، میونسپل یوٹیلیٹی ٹیکس ، لینڈ ، کچی آبادی، ایچ آر ایم، چارجڈ پارکنگ ، وہیکل ، انٹر پرائزز و انویسٹمنٹ اور فوڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ میئر نے صرف اورنگی ٹاؤن شپ پروجیکٹ میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا نوٹس لے کر وہاں کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اقبال خان کو محکمے سے برطرف کرکے واپس ڈی ایم سی ساوتھ بھیج دیا ہے جہاں سے وہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ تمام محکموں کے سینئر ڈائریکٹرز اور ڈائریکٹرز میئر کی پسندیدہ شخصیات میں شامل ہیں۔ بلدیہ میں بد انتظامی اور مالی بحران کے باعث تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگیوں میں تاخیر معمول کی بات بنتی جارہی ہے جبکہ میئر اہم ترین محکمہ فائر بریگیڈ میں ہونے والی سنگین نوعیت کی بدعنوانی اور بے قاعدگی کی تحقیقاتی رپورٹ کے باوجود ذمے دار کسی بھی افسر کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں، اس محکمے میں تاحال او پی ایس کی بنیاد پر جونیئر اسٹیشن افسر چیف فائر آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ