بنام اساتذہ کرام 

479

السلام علیکم و رحمۃُ اللہ وبرکاتہٗ
بحیثیت پاکستانی میں آپ سے اس لیے مخاطب ہوں کہ آپ معاشرے کے سب سے مقدس اور معتبر پیشے سے وابستہ ہیں۔ علم انبیاء کی میراث ہے اور آپ اس کے وارث ہیں۔ آپ ہمارے مستقبل کے امین ہیں اور ہمارے حال کو سنوارنے کی طاقت بھی آپ کے پاس ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ملک اور معاشرے کی صورت حال پر آپ بھی مضطرب ہوں گے۔ آپ کا دل بھی تڑپتا ہوگا اور علم و آگہی کے باعث آپ کی فکر بھی دوچند ہوگی۔ تعلیمی اداروں کی حالت بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ بے راہ روی، منشیات کا استعمال، نقل کا رجحان، تعلیم میں عدم دلچسپی، نوجوانوں کو تیزی سے بے مقصدیت اور مایوسی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کیا یہ محض ایک خواب تھا کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے الرازی، خوارزمی، بوعلی سینا اور ابن الہیشم جیسے لوگ نکلتے؟ وہ ملک جس میں نوجوانوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے وہاں ماہر ڈاکٹر، انجینئر، محقق، مفکر، اسکالرزکا تناسب کیا ہے؟ اگر ان 70 برسوں میں ہم فیصلہ نہ کرسکے کہ ہمیں جانا کہاں ہے؟ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا تو کیا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں؟ اگر آپ یعنی پورے پاکستان کے اساتذہ یہ طے کرلیں کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچا کر مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف لانا ہے تو کیا اس انہونی کو کوئی ہونے سے روک سکتا ہے؟ معاشرے کے بناؤ میں آپ کی اہمیت کے پیش نظر کچھ امور کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتی ہوں۔
ہمارا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ استاد استاد ہوتا تھا، سکھانے والا، بتانے والا، چاہے وہ تعلیمی ادارے کے اندر کسی بھی مضمون کا استاد ہو لیکن اخلاقی تربیت ہر وقت استاد کی ذمے داری بھی تھی اور وہ اس سے اچھی طرح آگاہ بھی تھے۔ آج اساتذہ اپنے مضمون کے استاد ہیں نصاب ختم کرانے پر مامور اس سے ہٹ کر طلبہ کیا سوچتے ہیں؟ انھیں کیا پریشانی ہے؟ وہ اپنے دین و وطن سے کتنے قریب ہیں؟ وہ تہذیب سے آشنا ہیں بھی یا نہیں؟ اساتذہ نے از خود ان معاملات کو اپنی ذمے داریوں سے نکال دیا ہے نہ صرف یہ بلکہ اکثر اوقات سنجیدہ تجزیوں پر اساتذہ کی جانب طلبہ و طالبات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ مثلاً ملک کی ایک نامور یونیورسٹی کی طالبہ نے اپنی پریزنٹیشن میں ڈارون تھیوری پر قرآن و سنت کی روشنی میں تنقید کرنا چاہی تو پروفیسر صاحبہ نے یہ کہہ کر اسے ایسا کرنے سے روک دیا کہ یہ اسلامیات کا پریڈ نہیں ہے۔
کیا یہ تبصرہ اندھی تقلید کا عکاس نہیں ہے؟
کیا الہامی ہدایت کا کوئی نعم البدل ہے؟ کیا انسانی علم اپنے تخلیق کرنے والے کے علم سے زیادہ مستند ہے؟ (نعوذ باللہ) سبحانک لا علم لناالا ما علمتنا یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ تعلیمی اداروں میں عمومی صورت حال یہی ہے۔
بہت محترم اساتذہ کرام! تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کا اندازہ لگانا ہو تو کسی بھی ادارے کی ویلکم پارٹی یا الوداعی پارٹی میں چلے جائیں جو اب صرف ڈانس پارٹی بن چکی ہیں۔ کیا ہم نے یہ ملک اپنی مقدس درس گاہوں کو مجرے بنانے کے لیے حاصل کیا تھا؟ کیا آپ اس بات سے لا علم ہیں کہ یہ رقص وسرود قوموں کی بربادی کا سامان ہیں؟ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ یہ سب کچھ ہندو ثقافت کا حصہ ہے جو ان کی فلموں کے ذریعے ہمارے معاشرے میں سرایت کررہا ہے؟ ہاں وہی ہندوستان جس کے ایجنٹ ہمارے ملک میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ جی ہاں وہی ہندوستان جس کی گولیاں روزانہ ہمارے فوجیوں اور معصوم شہریوں کو شہید کررہی ہیں۔ کیا ہماری تہذیب اور ثقافت اتنی کھوکھلی ہے کہ ہم اس کے مطابق اپنی تفریحات کے معیار طے کرسکیں؟ آپ سے زیادہ کون واقف ہوگا کہ یورپ تعلیمی و تحقیقی منازل طے کررہا تھا اور مسلمان تاج محل بنا رہے تھے اور تان سین کے راگوں میں الجھے ہوئے تھے۔
آپ نوجوان نسل کو اس اندھے کنویں میں گرنے سے روک سکتے ہیں۔ آپ اس قوم کو ذہین، تعلیم یافتہ با اعتماد مسلمان نوجوان دے سکتے ہیں جس سے نہ صرف قوم کا مستقبل سنور سکتا ہے بلکہ جوپوری دنیا کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کی تعلیمات کے ذریعے امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس پلٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں اب جب کہ ہم بغداد کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں، لیبیا کو اجڑتا دیکھ چکے ہیں برما میں ہم بے گھر، بے در، بے بس ہیں۔ شام کو تاراج ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کے زخم گہرے ہورہے ہیں۔ امت کی نگاہیں پاکستانی نوجوانوں پر ہیں جو اس رات کو صبح میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں بس آپ اعتماد کے ساتھ انہیں صحیح علم کی روشنی دے کر تو دیکھیں۔ اگر آپ زندگی بعد موت پر یقین رکھتے ہیں اور نبی پاکؐ کی مسکراہٹ سے اپنا استقبال چاہتے ہیں توآپ کو یہ ذمے داری ادا کرنا ہوگی۔ اس مبارک مسکراہٹ کے لیے تو ہم اپنا سب کچھ قربان کرسکتے ہیں۔
والسلام
ایک پاکستانی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ