شامی حملے امداد میں رکاوٹ، غوطہ میں ہلاکتیں، ایک ہزار سے متجاوز

183
دمشق: مشرقی غوطہ پر شامی فوج کے حملوں میں زخمی ہونے والے بچے اسپتال میں زیر علاج ہیں
دمشق: مشرقی غوطہ پر شامی فوج کے حملوں میں زخمی ہونے والے بچے اسپتال میں زیر علاج ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شامی حکومتی فورسز کے زیر محاصرہ علاقے مشرقی غوطہ میں اسدی اور روسی افواج کی جانب سے فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شامی فورسز مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ اس علاقے کے بڑے حصے کا کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔

تاہم اس جنگی آپریشن کے سبب وہاں محصور عام شہریوں تک امدادی اشیا کی ترسیل میں مشکلات ہیں۔ شامی دارالحکومت دمشق کے قریب واقع باغیوں کے اس آخری گڑھ میں گزشتہ 3 ہفتوں سے جاری شامی فورسز کے حملوں کے سبب اب تک ایک ہزار سے زیادہ شہری جاں بحق ہو ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ شام میں اسد انتظامیہ کے زیرِ محاصرہ مشرقی غوطہ کی جانب بھیجی گئی انسانی امداد کو رکاوٹیں پیدا کیے جانے کے باعث علاقے تک نہیں پہنچایا جا سکا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا کہنا ہے کہ امدادی قافلے کے گزرنے کی اجازت دیے جانے باوجود اسد انتظامیہ کے تواتر سے جاری حملوں کی بنا پر ہنگامی امداد آج بھی مشرقی غوطہ کو نہیں پہنچ سکی۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد رابطہ دفتر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر امدادی کاروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ماحول فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ۔ بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا ہے کہ لڑائی کا سلسلہ روکا جائے تاکہ محصورین کو مدد فراہم کی جا سکے ۔

دوسری جانب عرب ٹی وی کی ایک رپوڑٹ کے مطابق مشرقی غوطہ میں اسد رجیم اور اس کے حامیوں کی طرف سے برپا قیامت خیز تباہی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگ بندی کی مساعی کے باوجود اسدی فوج دمشق کے مصیبت زدہ علاقے میں مسلسل وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئے ہے ۔ مفلوک الحال عوام تین ہفتوں سے اذیت اور عذاب مسلسل کا سامنا کر رہے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے یونیسیف نے غوطہ کو زمین پر جہنم قرار دیا ہے۔

تین ہفتوں سے شامی درندہ صفت فوج نے 1005 نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ 4829 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق تین ہفتوں سے تباہ کن بمباری کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔ صرف بدھ کے روز 91 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مندوبین کی تیار کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غوطہ کے نواحی علاقوں مسرابا، حموریہ، الفرار اضلاع میں دسمبر کے مہینے میں 50 ہزار افراد کی موجودگی کا پتا چلایا گیا تھا۔ عالمی ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ الغوطہ میں محصور ہونے والے عام شہریوں بالخصوص بچوں کے حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔ زخمی بچوں اور فاقہ کشی کے شکار افراد تک امدادی اداروں کی رسائی بھی مشکل ہے ۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے یونیسیف کے اداروں کا کہنا ہے کہ غوطہ میں ہرطرف تشدد، خون، لاشیں، موت اور زخموں سے چور زندہ انسانی لاشے پڑے ہیں۔ خوراک اور ادویات تو کیا ان زخمیوں کو پانی تک میسر نہیں۔ اسدی فوج کی بمباری اور کیمیائی ہتھیاروں سے کیے جانے والے حملوں کے بعد وبائیں بھی ٹوٹ پڑی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ