موجیں دیکھ کر وطن کی محبت جاگتی ہے، یہ ہیں پاکستانی نمائندے، چیف جسٹس

192

لاہور (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے نومنتخب سینیٹرز کی دہری شہریت کے معاملے کی سماعت 10 مارچ کیلیے مقرر کردی۔ کیس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوگی۔ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہیں پاکستان کے نمائندے باہر فائدہ دیکھا تو
وہاں کی شہریت لے لی، یہاں کی موجیں دیکھیں تو وطن کی محبت یاد آگئی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ تحریک انصاف کے رہنما اور نومنتخب سینیٹر چودھری سرور نے عدالت میں اپنا بیان حلفی جمع کرایا کہ میں 2013ء میں برطانوی شہریت چھوڑ چکا ہوں۔ عدالت نے دہری شہریت ازخود کیس میں خالد خان اور بلال منٹو کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔ پی ٹی آئی کی رہنما عندلیب عباس نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کی بہن سعدیہ عباسی اور نزہت صادق 5، 5 سال دہری شہریت کے ساتھ پارلیمنٹ کی رکن رہ چکی ہیں۔ انہوں نے سینیٹر بننے کے لیے دہری شہریت چھوڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ اہل امیدواروں کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں، اسی لیے از خود نوٹس لیا۔ 12 مارچ کو سینیٹ چیئرمین کا انتخاب ہونا ہے، نہیں چاہتے کسی اہل ووٹر کا نوٹیفکیشن رکا رہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ