افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تشویشناک ہیں ، پاکستان

482

اسلام آباد (اے پی پی)دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے تحفظات ہیں،افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور امریکا کا مشترکہ مقصد ہے،پاکستان افغان صدر اشرف غنی کے امن وژن کا خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کیخلاف کامیاب جنگ لڑی اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا کر دیا
ہے۔جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بے شمار مسائل ہیں اس وقت مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان انسانی ہمدردی کے تحت جیلوں میں قید 70 سال سے زیادہ اور پاکستانی تجویز پر 60 سال کی عمر سے زیادہ اور 18 سال سے کم عمر قیدیوں کے تبادلوں کی تجاویز جذبہ خیر سگالی کی ایک کوشش ہے،اگر یہ کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر ہم جامع مذاکرات کی جانب پیشرفت کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ، مہذب معاشروں میں اس قسم کے مظالم کا کوئی تصور نہیں، عالمی برادری بھارتی مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم کا نوٹس لینا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے لیکن بھارت نے کبھی پاکستانی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا۔ترجمان نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے سے دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی صورتحال میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور امریکاکا مشترکہ ہدف ہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی غرض سے تمام کثیر الجہتی فورمز میں تسلسل کے ساتھ شرکت کر رہا ہے کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان سمیت خطے کے تمام ملکوں کے لیے باعث تشویش ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان 26 اور 27 مارچ کو تاشقند میں ہونے والی افغانستان سے متعلق عالمی کانفرنس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی سب سے بڑی درآمدی منڈی ہے۔ اٖفغان تاجروں کو سہولتوں کی فراہمی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ