کراچی سیف سٹی منصوبے میں تاخیر کی وجہ نیب ہے، سیکرٹری داخلہ سندھ کی ایپکس کمیٹی کو بریفنگ

343

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایپکس کمیٹی کے 22ویں اجلاس میں سیف سٹی پروجیکٹ سے متعلق خدشات کا اظہار کیاگیا کہ قومی احتساب بیورو(نیب)، سندھ کی مداخلت کے باعث اس میں تاخیر ہوئی ہے لہٰذا یہ فیصلہ کیاگیا کہ نیب کو اعتماد میں لے کر اس منصوبے کو دوبارہ شروع کیاجائے۔ ایپکس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ الطاف حسین اور ان کی خاندان کے نام سے 62 عمارتیں اور سڑکیں ہیں ان تمام ناموں کو تبدیل کرنے کی منظوری دی جائے اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس فیصلے کی کابینہ سے پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔ ایپکس کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاؤس کے کانفرنس روم میں مراد علی شاہ
کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال، وزیراطلاعات سید ناصر حسین شاہ، وزیر قانون ضیا الحسن لنجار، چیف سیکرٹری سندھ رضوان میمن، کورکمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید،آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، سیکرٹری داخلہ قاضی شاہد پرویز،ڈائریکٹر ایف آئی اے و تمام متعلقہ اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مدارس کا قانون، کراچی سیف سٹی منصوبہ، سائبر کرائم، اے ٹی اے کے تحت ڈیٹنشن پاورز ، اسٹریٹ کرائم کیسز، لینڈ گریبرز کے معاملات، بینکوں کی سیکورٹی، موٹرسائیکلوں میں ٹریکرز کی انسٹالیشن، درگاہوں کی سیکورٹی آڈٹ، معیاری رجسٹریشن نمبر پلیٹس، کچے کے علاقوں میں آپریشن پر بحث شامل تھے۔ آئی جی سندھ اور سیکرٹری داخلہ نے مدارس سے متعلق قانون کے مسودہ پر اجلاس کو آگاہی دی۔ کراچی سیف سٹی منصوبے سے متعلق ایپکس کمیٹی اجلاس میں بتایا گیا کہ نیب نے اس منصوبے میں مداخلت کی اور نیب کی وجہ سے سیف سٹی منصوبہ تاخیر کا باعث بنا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو ہدایات کی کہ کراچی سیف سٹی منصوبے پر کام دوبارہ شروع کیا جائے، یہ منصوبہ مجھے ہر حال میں مکمل کرنا ہے، یہ شہر کی سیکورٹی کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مدارس قانون آئی جی سندھ نے بنایا ہے۔ وفاقی حکومت بھی اس پر قانون سازی کررہی ہے لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں کی جاسکی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر داخلہ سندھ سے کہا کہ آپ وفاقی وزارت داخلہ کو بتائیں کے مدارس اصلاحات پر ایپکس کمیٹی نے تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس مسئلے کو جلد سے جلد نمٹائیں۔ اسٹریٹ کرائم قوانین سے متعلق ایپکس کمیٹی اجلاس بتایا گیا کہ جوڈیشری اکیڈمی کی مشاورت سے اسٹریٹ کرائم میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ کراچی میں جرائم کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، موبائل چھیننے پر بھی گولی چل جاتی ہے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ اگر اسٹریٹ کرائم میں فائر کیا جائے تو اسکو اے ٹی سی کے زمرے میں لایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو بھی ترمیم کرنی ہیں کریں،اسٹریٹ کرمنلز کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ ایپکس کمیٹی میں تجویز دی گئی کہ حکومت سوچ رہی ہے کہ رجسٹریشن کے پیپرز محکمہ ایکسائیز متعلقہ ڈاک کے پتے پر بذریعہ کوریئر بھیجے جائیں۔ اسسے صحیح ایڈریس کا بھی تعین ہوسکے گااورکسی قسم کے کرائم کی صورت میں گاڑی ٹریس کرنا آسان ہو جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ