اسدی فوج کی مشرقی غوطہ میں پیش قدمی ،قوام متحدہ کا انتباہ 

42
دمشق: روسی اور اسدی افواج کی جانب سے مشرقی غوطہ پر بم باری کے بعد زخمی شیرخوار کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے‘ بچے کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے
دمشق: روسی اور اسدی افواج کی جانب سے مشرقی غوطہ پر بم باری کے بعد زخمی شیرخوار کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے‘ بچے کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں 30روزہ جنگ بندی کی عالمی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسدی فوج نے مشرقی غوطہ کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔ اسدی فوج مشرقی غوطہ کا محاصرہ بھی سخت کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے مزید فوجی قوت جمع کر لی ہے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق بشار الاسد کے حامی ملیشیا گروپوں کے مزید 700 سے زائد مسلح اہلکار وہاں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کے باوجود اسد حکومت مشرقی غوطہ پر قبضہ کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر شہزادہ زید رعد حسین نے کہا ہے کہ اسد حکومت مشرقی غوطہ میں پوری دنیا کو برباد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے اسدی فوج کی کارروائیوں کو غیرانسانی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ شامی مزاحمت کاروں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مشرقی غوطہ کا دفاع کیا جائے گا۔ ایک مزاحمتی رہنما حمزہ بیرقدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ روس کی طرف سے پیش کردہ اس منصوبے پر مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، جس کے تحت اس شورش زدہ علاقے سے ان مزاحمت کاروں کے محفوظ انخلا کی تجویز دی گئی ہے۔ حمزہ کے مطابق مشرقی غوطہ کے تمام گروہ اپنی سرزمین کے تحفظ کی خاطر متحد ہیں۔ روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ کہ شامی اپوزیشن کے بعض جنگجو اپنے اہل خانہ کے ساتھ مشرقی غوطہ سے محفوظ طور پر نکل جانے سے متعلق روسی تجویز قبول کرنا چاہتے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے غوطہ میں انسانی بنیادوں کی آڑ میں ایک نئی جنگ بندی کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔منگل کے روز روسی فوج نے غوطہ میں موجود مزاحمت کاروں کو محفوظ انخلا کی پیش کش کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ