نیب :زیر تفتیش تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب ،انوشہ رحمان کے اثاثوں کی چھان بین کا فیصلہ

28
اسلام آباد، چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس ہورہا ہے
جاوید اقبال

اسلام آباد،لاہور(آن لائن +اے پی پی + مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین نیب نے تمام ڈی جیز سے شکایات، انکوائریوں اور زیر تفتیش مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے جب کہ نیب حکام نے نوازشریف کی چہیتی وزیر انوشہ رحمن کے اثاثوں کی چھان بین کا بھی فیصلہ کر لیا ہے،نیب راولپنڈی نے سابق چیئرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت الٰہی اوررکن فنانس سی ڈی اے سعید الرحمن کو گرفتار کر لیا ہے ،نیب لاہور نے قائداعظم سولر پارک منصوبے میں ایک ارب20 کروڑ روپے مالیت کی کرپشن کے انکشاف کے بعد منصوبے کی کنسلٹنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رشید کیخلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اب احتساب بیورو میں انکوائریاں اور انویسٹی گیشن الماریوں یا فائلوں میں بند نہیں ہوں گی، تمام ڈی جیز شکایات، انکوائریوں اور زیر تفتیش مقدمات کا ریکارڈ پیش کریں اور مقررہ وقت میں تفتیش مکمل نہ کرنے والے اہلکاروں سے ایک ہفتے میں وضاحت طلب کی جائے۔ چیئر مین نیب نے ہدایت دی کہ تحقیقات میں قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے، تمام برائیوں کی جڑ بدعنوانی ہے اور ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز ہے۔ علاوہ ازیں نیب حکام نے اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث وزیر مملکت اور نوازشریف کی قریبی ساتھی انوشہ رحمن سے غیر قانونی طریقہ سے بنائے گئے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں،انوشہ رحمن کا تعلق ایک غریب اور متوسط خاندان سے تھا تاہم وزیر مملکت آئی ٹی بننے کے بعد ان کے اثاثوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے۔انوشہ رحمن کیخلاف ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی اور ڈی جی نیب لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تحقیقات کریں۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ روز انوشہ رحمن اور پی ٹی اے کے سابق چیئرمین اسماعیل شاہ کے خلاف غیرقانونی طور پر نیکسٹ موبائل جنریشن سروسز(NGSMA) کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر من پسند کمپنی کو دینے پر تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انوشہ اور اسماعیل شاہ پر الزام ہے کہ انہوں نے آئی ٹی شعبے میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ساڑھے 4برس میں انوشہ رحمن کے بیرونی دوروں کا بھی ریکارڈ طلب کیا جارہا ہے۔انوشہ رحمن کے بارے میں خیال ہے کہ توہین رسالت کے بارے میں قانون سازی کا ڈرافٹ بھی انوشہ نے ہی تیار کیا تھا کیونکہ نوازشریف حکومت کے قانونی بلوں کے ڈرافٹ تیار کرنے کی ذمے دار انوشہ رحمن ہی ہیں۔دوسری جانب نیب راولپنڈی نے کلچرل کمپلیکس شکر پڑیاں اسلام آباد کی تعمیر میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے مبینہ الزامات پر سابق چیئرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت الٰہی اور رکن فنانس سی ڈی اے سعید الرحمن کو گرفتار کر لیا۔ملزمان کو احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کو مزید تفیش کے لیے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔ادھر نیب لاہور نے قائداعظم سولر پارک منصوبے میں ایک ارب20 کروڑ روپے مالیت کی کرپشن کے انکشاف کے بعد منصوبے کی کنسلٹنٹ کمپنی 8.2 کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رشید کیخلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بتایاگیا ہے کہ رشید کا دیگر کمپنیوں کے ساتھ بھی رابطہ تھا ،ملزم رشید پر الزام ہے کہ اس نے قائد اعظم سولر پارک منصوبے میں دیگر کمپنیوں کے لیے مختلف ٹھیکا جات کی منظوری کرائی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ