’’قید ناحق میں عافیہ کا جنم دن‘‘

123

ڈاکٹڑ فوزیہ صدیقی
عافیہ کی واپسی کا ایک انتہائی نادر اور سنہری موقع گزشتہ سال 2017ء میں مسلم لیگ ن کے ’’تاحیات قائد‘‘ اور سابق وزیراعظم میاں محمد شریف کی حکومت نے امریکی صدارت کی دوسری مدت مکمل کرنے والے بارک اوباما کو ایک خط نہ لکھ کر ضائع کردیا مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ عافیہ کو وطن واپس لانے کا فریضہ ساقط ہوگیا ہے۔ عافیہ پاکستانی شہری ہے۔ حکومت عافیہ کو تحفظ فراہم نہ کرکے آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔ عافیہ کی واپسی کچھ بھی مشکل نہیں ہے بس اس کے لیے غیرت مند قومی قیادت کی ضرورت ہے جس کی تلاش میں عافیہ کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ہے۔
2018ء کے مارچ میں عافیہ کے قید میں 15 سال مکمل ہوجائیں گے، استقامت کو تیری سلام عافیہ۔ 2 مارچ کو عافیہ کی قید میں پندرہویں سالگرہ بھی گزر گئی۔ خوشی کا یہ دن ہم سب گھر والوں کو اداسی کے ساتھ گزارنا پڑا کہ یہ ہمارے اپنوں ہی کی غفلت و بے حسی کا نتیجہ ہے۔ جب جب قوم کی بیٹی کی واپسی کا موقع آیا ہمارے حکمرانوں کی زبانوں پر تالے پڑجاتے ہیں اور ہاتھ شل ہوجاتے ہیں۔ نہ ان سے بات ہوتی اور نہ ہی رہائی کے کاغذات پر دستخط ہوتے ہیں۔ افسوس یہ کہ سالگرہ کے موقع پر جو مغربی ممالک اور امریکی شہریوں کے لیے ایک بڑا تہوار ہے ہمارا سفارت خانہ عافیہ کو نہ تو مبارکباد دینے گیا اور نہ ہی ہماری ملاقات کے لیے کوشاں ہے۔ ریمنڈڈیوس ہمارا قاتل اس کا سفارت خانہ پورے وقت نگہبان بن کر اس کے ساتھ رہا۔ کلبھوشن یادیو ہمارے قومی دشمن کے سفارت خانہ نے بھی خیال کیا۔ مگر اپنی معصوم، مظلوم اور قابل قدر بہن، قوم کی ذہین بیٹی عافیہ کے لیے حکومت کے پاس سوائے شرم ناک بے حسی کے کچھ نہیں ہے۔ اسی بزدلی اور کم ظرفی کی بنا پر اقوام عالم میں ہماری ساکھ نہیں بن پارہی ہے۔ کیا مورخ ہمیں ایک بیٹی فروش قوم کے نام سے یاد کرے؟ کیا ہماری قومی قیادت کو یہ گوارہ ہے؟
بیٹیوں کی عزت پر سیاست کرنے والے سن لیں کہ پاکستانی قوم میں اتنا شعور آچکا ہے کہ وہ اب ان کے جھوٹے اور کھوکھلے نعروں میں نہیں آئیں گے۔ عافیہ کا جنم دن قوم کی بیداری کا دن ہے۔ یہ کسوٹی ہے سیاست دانوں کی جرات اور غیرت مندی کو پرکھنے کی۔ یہ راہ گزر ہے قومی عزت کی، اس کی رہائی قوم کی سربلندی ہے۔ عافیہ کے جنم دن پر ہم تجدید عہد کرتے ہیں کہ اپنی بہن کو واپس لا کر دم لیں گے۔ ایسے لیڈر چنیں گے جو قومی عزت کو ہر شے پر مقدم رکھیں گے۔ میری بہن عافیہ ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی سزا کاٹ رہی ہے۔ وہ ملک میں حقیقی تبدیلی کی خواہش مند تھی، تعلیمی انقلاب کے ذریعے ملک کے ہر بچے کو عزت، وقار اور تحفظ دینے کا خواب لے کر وطن واپس آئی تو ظالموں کو برداشت نہیں ہوا۔ معصوم بچوں سمیت اغواء کے بعد ظلم کی یہ داستان 15 سال سے رقم کی جارہی ہے جو تہذیب یافتہ دنیا کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
ظلم سہنا بھی تو ظلم کی حمایت ٹھیرا
خاموشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح
میں اپنی قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ خدارا، خاموش نہ رہیں یہ ایک عافیہ کے لیے نہیں یہ ہم سب کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آواز ہے، یہ دنیا کی نظر میں پاکستانیوں کی عزت کے لیے آواز ہے، یہ بحیثیت قوم ہماری بقا کے لیے آواز ہے۔ یہ سیاسی نعرہ نہیں، یہ دل سے اٹھنے والی آواز ہے، یہ بھیک نہیں حق کی پکار ہے۔
2 مارچ کو دنیا بھر میں پچھلے کئی برسوں کی طرح اس برس بھی عافیہ کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ عافیہ موومنٹ سیکرٹریٹ میں پاکستان اور دنیا بھر سے انسانیت اور انصاف پسند عوام نے رابطہ کرکے عافیہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاکستان کے کم و بیش 40 چھوٹے بڑے شہر اور قصبات میں عافیہ کا جنم دن منایا گیا۔ ملک بھر کے عوام قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی سالگرہ کے موقع پر اس کی وطن واپسی کے لیے ’’تجدید عہد‘‘ کر رہے ہیں کہ جرم بے گناہی کی پاداش میں 15سال گزارنے بہت ہوتے ہیں۔ عوام کا یہ جذبہ یہ ظاہر کررہا ہے کہ قوم بیٹی فروش نہیں ہے ہمارے لیڈر بد نصیب، بے حس اور کمزور ہیں۔ پاکستان کو اقوام عالم میں باوقار مقام دلانے کے لیے اس الیکشن میں قوم سے غیرت مند لیڈر شپ منتخب کرنے کی اپیل ہے۔
مٹ جائیں گے جب ہم، تب آواز اٹھاؤ گے؟
ہم وطن ہو تو شور مچا کیوں نہیں دیتے؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ