جرمنی: مخلوط حکومت کی راہموار ، مہاجرین مخالف مظاہرہ

74
برلن: جرمنی کے ایک شہر میں اسلام اور مہاجرین مخالف جماعت کے زیر اہتمام مظاہرے میں مقامی باشندے ’سرحدیں بند کرو‘ کے عنوان سے احتجاج کررہے ہیں
برلن: جرمنی کے ایک شہر میں اسلام اور مہاجرین مخالف جماعت کے زیر اہتمام مظاہرے میں مقامی باشندے ’سرحدیں بند کرو‘ کے عنوان سے احتجاج کررہے ہیں

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ایس پی ڈی کے ارکان نے چانسلر انجیلا مرکل کے قدامت پسند سیاسی دھڑے کے ساتھ مخلوط حکومت کے قیام کی حمایت کر دی ہے ۔ یوں الیکشن کے تقریباً 5 ماہ بعد حکومت سازی کی راہ ہموار ہو گئی ہے ۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی اکثریت نے مرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور صوبہ باویریا میں اس کی اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین کے ساتھ حکومت سازی کی حمایت میں ووٹ دے دیا ہے۔ اس پیش رفت کی خبریں جرمن ذرائع ابلاغ پر جاری ہو گئی ہیں تاہم باقاعدہ اعلان عنقریب متوقع ہے ۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے جرمن پارلیمان کے اجلاس میں انجیلا مرکل کو بطور چانسلر ان کی چوتھی مدت کے لیے چن لیا جائے گا۔نئے چانسلر کے لیے انتخابات 14 مارچ کو ہوں گے ۔ دریں اثنا جرمن چانسلر مرکل نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نئی حکومت کا حصہ بننے کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کی نئی حکومت میں مل کر کام کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ جرمن چانسلر کے بقول اب ضروری ہے کہ نئی کابینہ جلد اپنا کام شروع کرے۔ دوسری جانب جرمنی کے جنوب مغربی حصے کے ایک چھوٹے شہر کانڈل میں ہونے والے ایک مظاہرے میں مقامی لوگوں نے مہاجرین کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔ مظاہرے میں مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تارکین وطن کے لیے ملکی سرحدوں کو بند کردینا چاہیے ۔ مظاہرے کا انعقاد اسلام اور مہاجرت مخالف پارٹی اے ایف ڈی نے کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ