امریکی بیڑا ویتنام پہنچ گیا، چین سے کشیدگی بڑھ گئی

196
ہنوئی: امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس کارل ونسن‘ ہزاروں فوجیوں اور درجنوں جنگی طیاروں کو لیے ویت نام کی بندر گاہ پر لنگر انداز ہے

ہنوئی (انٹرنیشنل ڈیسک) ویتنام کے خلاف امریکی جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بیڑا بڑی تعداد میں فوجیوں کو لے کر ویتنام کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا ہے ۔ امریکی فوج کی آمد کا مقصد جنوبی چین میں سمندری حدود میں چین کی توسیع پسندی کی روک تھام کرنا ہے ۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی بحری بیڑہ ’یو ایس ایس کارل ونسن‘ 6 ہزار فوجیوں کو لے کر ویتنام کے ساحلی شہر دانانگ میں پہنچا ہے۔ امریکی فوج کی بڑی تعداد ایک ایسے وقت میں ویت نام پہنچی ہے جب جزائر باراسیل اور 7 دیگر صنعتی جزیروں میں چین اپنی فوج جمع کررہا ہے ۔ یہ جزائر اس علاقے میں واقع ہیں جس پر ویتنام اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے ۔ دوسری جانب چین نے آئندہ سال کے لیے دفاعی بجٹ کی مد میں 175 ارب ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ رقم گزشتہ برس سے 8 فیصد زیادہ ہے ۔ یہ اعلان بیجنگ میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا۔ چین نے آئندہ سال کے لیے اپنی شرح نمو کا ہدف بھی 6.5 فیصد مقرر کیا ہے ۔ اس اجلاس میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی جانب سے ملک کے صدر کے لیے زیادہ سے زیادہ 2 ادوار کی شرط ختم کرنے کی تجویز کی منظوری کا بھی امکان ہے۔ چین نے تنبیہ کی ہے کہ اگرچہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ نہیں چاہتا تاہم اگر اس کی معیشت کو نقصان پہنچا تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے ترجمان ژینگ یسوئی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسٹیل کی درآمد پر 25 فیصد اور ایلومینم کی درآمد پر 10 فیصد ڈیوٹی لگانے کے منصوبے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ژینگ یسوئی کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارت کا حجم جو کہ گزشتہ سال 580 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا، اسے دیکھتے ہوئے دونوں ممالک میں تھوڑا بہت ٹکراؤ تو ہوگا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر چینی مفادات کو نقصان پہنچا تو ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے متنازع محصولات کا اعلان گزشتہ جمعرات کو کیا تھا جس پر کئی ممالک نے شدید تنقید کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ