شریف خاندان کے وکیل اور جج میں تلخ کلامی ،نواز شریف کی طبیعت بگڑگئی،نیب نے مزید مقدمات کھولنے کی منظوری دے دی

674
اسلام آباد، سابق وزیر اعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آرہے ہیں
اسلام آباد، سابق وزیر اعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آرہے ہیں

اسلام آباد (آن لائن+صباح نیوز )اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز کی سماعت کے دوران شریف خاندان کے وکیل اور فاضل جج کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔پیر کوجج محمد بشیر خان نے جب سماعت شروع کی تو استغاثہ کے گواہ عبدالحنان کو بیان اور جرح مکمل ہونے پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ فلیگ شپ ریفرنس کیس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث روسٹرم چھوڑ کر چلے گئے ،انہوں نے عدالت کو کہا اگر آپ کو میرا وارنٹ جاری کرنا ہے تو کردیں9سے 12بجے تک یہاں ہوں پھر عدالت عظمیٰمیں پیش ہوناہے ،یہ تاریخ نیب حکام اور جج صاحب کے اصرار پر طے ہوئی ،میری مرضی سے طے نہیں ہوئی جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے اصرار کیا دیگر بچ جانے والے گواہوں کا بیان آج ہونا چاہیے یہ تاریخ خواجہ حارث کی مرضی سے مقرر کی گئی جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیے خواجہ صاحب آپ اب بھی صحت مند لگ رہے ہیں جرح کریں، جس پر شریف خاندان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میں ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں جس پر فاضل جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے میں عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیتا ہوں جس پر خواجہ حارث نے جواب دیاآپ خط لکھیں ، میری بات نہیں مانی گئی شاید آپ کی مان لیں ،کچھ مقدمات کی نوعیت حساس ہوتی ہے ، عدالت عظمیٰ میں پیش ہونا پڑتا ہے ۔ قبل ازیں نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے تاہم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعاکی کہ ان کے موکل کی طبیعت خراب ہے لہٰذا انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے ملزم نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دی۔ بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 7مارچ تک ملتوی کردی۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف 3ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہوا جس میں نواز شریف کے خلاف 3ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی چیئرمین نیب نے منظوری بھی دی۔ایگزیکٹو بورڈ نے مجموعی طور پر 26 مختلف معاملات میں ریفرنسز ، انکوائریز کی توثیق کی ہے۔ ترجمان نیب کے مطابق نیب اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشن مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب تمام متعلقہ افراد سے بھی قانون کے مطابق ان کا موقف معلوم کرے گا تاکہ قانو ن کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔اجلاس میں نوازشریف اوردیگرکے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور15کمپنیوں میں بدعنوانی کاضمنی ریفرنس دائرہوگا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملزاورہل میٹل کیس میں بھی ضمنی ریفرنس دائر ہوگا۔نیب اعلامیے کے مطابق نواز شریف اور دیگر افراد کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی ضمنی ریفرنس دائر ہوگا۔اس کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ہونے والے نیب اجلاس میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے افسران کے خلاف اختیارات کے ناجائزاستعمال ، این ٹی ایس انتظامیہ و محکمہ صحت پنجاب اور چودھری شوگر ملز کے مالکان کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی۔چودھری شوگرملزمالکان میں نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز،کلثوم نواز،مریم صفدر،فضل داد عباس اور مسرور انور کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔نیب اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مقصود اینڈ کمپنی کے مالک ملک مقصوداحمدکیخلاف آمدن سے زائداثاثوں پرانکوائری کی منظوری بھی دی گئی جبکہ اسحاق ڈار کے خلاف بدعنوانی کا ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔چیئرمین نیب نے احدچیمہ اوردیگر کیخلاف اختیارات کے ناجائزاستعمال اوربدعنوانی کی شکایات کی انکوائری کی منظوری بھی دی۔نیب نے موبائل سروسزکاٹھیکہ دینے کے الزام میں اسحاق ڈار،انوشہ رحمن اور اسماعیل شاہ کیخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے ۔چیئرمین نیب نے عمران خان کے سرکاری ہیلی کاپٹراستعمال کرنے پر حکام کیخلاف انکوائری کی منظوری بھی دی۔نیب نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک ، چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا خالد پرویز اور دیگر کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی۔ملزمان نے مبینہ طور پر بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے مالم جبہ میں 275ایکڑ سرکاری جنگلات کی اراضی سیمنز گروپ آف کمپنیز کو لیز پر دی جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کسی کے خلاف امتیازی کارروائی نہیں کررہا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ