بیٹی کے نام باپ کا دوسرا خط

140

خلوص اور خدمت کامیاب ازدواجی زندگی کی کنجی

(ابو ظفر زین)
دختر علم و عمل! السلام علیکم
ایک کامیاب بیوی بننے کے لیے بہت سی صلاحیتوں کی ضرورت ہے ۔ اسے کبھی سیاستدان بننا پڑے گا ، کبھی ڈپلو میٹ ، کبھی ٹیچر ، کبھی خادمہ ، کبھی نرس ، کبھی سیکرٹری ، کبھی باورچن ،کبھی میزبان ، کبھی درزن ، کبھی دھوبن ، کبھی جنرل منیجر ، کبھی اکائونٹینٹ اور کبھی بیوی اور ہر کردار کا ایک ہی مقصد ہو گا۔ شوہر کو عظیم بنانا اور اس کی عظمت میں سے اپنا حصہ وصول کر لینا ۔
شوہر کو عظیم بنانا؟ ہر بیوی کا فرض مرکزی اورمقصد حیات ہے۔ اگر سوانح عمری کا مطالعہ کیا جائے تو ہر مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے ۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو وہی قوم بام تہذیب و تمدن پر پہنچ سکی ہے جس نے اپنی گھریلو زندگی کی صحیح تنظیم کی۔ جس نے صنف نازک کو اس قابل بنایا کہ وہ صنف قوی کی اعلیٰ تعمیر اور تشکیل کر سکے۔ قتل سے لے کر قیادت تک اور اسپورٹس سے لے کر خلائی سفر تک مرد اپنی محبوبہ کو خوش کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کر گزرتا ہے؟ اپنی عورت کو خوش کرنا یہی تو مرد کا مطلوب و مقصود ہے۔ اس کی قوت برقی ہے ، اس کی جوہری توانائی ہے ۔
بیٹی! قانون اور شریعت کی نگاہوں میں تو بیوی بن چکی۔مگر یہ تو پہلی منزلِ راہ ہے ۔ مقصود تو ابھی بہت دور ہے ۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان ، اور بھی ہیں
ان ہی روز شب میں اُلجھ نہ رہ جانا
کہ تیرے زمیں و زماں اور بھی ہیں
تیری دوسری منزل ہے بیوی سے محبوبہ بننا۔ یہاں پر نسوانیت یعنی جسمانی حسن عقل و تدبیر کا بھی ، ہمت اور محنت کا بھی امتحان ہے۔
ہم نے ایک اہل قلم سے پوچھا کہ تمہیں اتنا دل چسپ انداز بیان کس طرح آیا؟ اس نے کہا کہ میں نوجوانی میں ایک محبوبہ کو خط لکھا کرتا تھا اور اپنے خطوط کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنانے کی تمام کوشش کرتا تھا ۔
ہم نے ایک اعلیٰ افسر سے پوچھا کہ تمہاری کامرانی کا راز کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے حالات سے کبھی شکست نہیں کھائی ۔ جب میں بیکاری سے تباہ حال تھا تو ہر شخص کہتا تھا تم احمق ہو ۔ مگر میری بیوی کہا کرتی تھی کہ تم ہیرو ہو ۔ اور میری ہمت کو بڑھا کر اس نے واقعی مجھے ہیرو بنا دیا۔
ایک یتیم امریکن لڑکی نے کہا ، میری جوانی عجیب گزری ، مجھے خالائوں کے اتارے ہوئے کپڑوں کو کاٹ چھانٹ کر اپنے کپڑے بنانے پڑتے تھے ۔ کیونکہ میرے پاس نئے کپڑوں کے لیے رقم نہ تھی ۔ مجھے ڈانس کرنا اور اسکیٹ کرنا نہیں آتا تھا ۔ اس لیے سو سائٹی میں میری کوئی قیمت نہ تھی ۔ میں دوسری لڑکیوں کے مقابلے میںبد صورت بھی تھی اور کم علم بھی ۔ ایک دن ایک فالج زدہ لنگڑے سے ملاقات ہو گئی ۔
’’ مس الیز! میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘
میں ایک شرط پر راضی ہو گئی کہ وہ مجھے سو سائٹی میں ممتاز ترین مقام حاصل کرنے میں مدد دے اور شکر ہے کہ فرینکلن ڈی روز ولٹ اپنے عہد پر قائم رہا ۔ (روز ولٹ مسلسل چار مرتبہ امریکہ کا صدر منتخب ہوا)
اسلامی تاریخ سے بھی چند مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔
مرد کیا ہے ۔ ایک زنانہ صنعت ہے ۔ طفلی میں اسے ماں بناتی ہے ۔ لڑکپن میں اسے باپ بناتا ہے ۔ اور پھر تمام زندگی اسے بیوی بناتی ہے مگر اس کی محبوبہ اس کے دل کی ملکہ ، اس کی اسٹیرنگ وہیل کی ڈرائیور بن کر ۔ یہ ایک فن اور ہنر ہے جو سیکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ اس کار خیر میں عورت کا جسمانی حسن و شباب بڑاکام دیتا ہے ۔ لیکن الحمدللہ کہ یہ لازمی نہیں ہے ۔ اگر تیرے پاس حسن و جوانی نہیں توغم کیا ۔ سلیقہ اخلاق ، کردار ، خدمت اور سب سے بڑھ کر عقل سے کام لے۔
عقل کسی بہت نادر اور عظیم چیز کانام نہیں ۔ فطرت جب کسی انسان کو دماغ دیتی ہے تو اسے عقل کا تخم بھی عطا کر دیتی ہے ۔ اب یہ اس انسان پرمنحصر ہے کہ علم دنیا ، علم دین ، بصارت ، بصیرت ، تجربہ ، تحقیق اور عمل کے ذریعے اس تخم کو بار آور درخت بنا دے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ صحیح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے اچھے دل و دماغ کی بہت سی لڑکیاں اپنی ازدواجی زندگی میں ٹھوکریں کھاتی ہیں اور اپنا حال مستقبل تنگ و تلخ و تاریک بنا لیتی ہیں ۔ اس لیے اس خط میں اور آئندہ چند خطوط میں ہم تجھے چند خاص مشورے پیش کر رہے ہیں ۔
ہر نئے ماحول میں ابتدائی چند ہفتے بڑے نازک ہوتے ہیں ان ہی چند ہفتوںمیں سسرال کے لوگ تیرے متعلق اچھی یا بری رائے ہمیشہ کے لیے قائم کر لیں گے جن کا اچھا یا برا اثر سالہا سال اور رہے گا ۔ ان ہی چند ہفتوں میں تو شوہر پر کنٹرول حاصل کر سکے گی ۔ ورنہ شوہر تجھ پرکنٹرول حاصل کر لے گا ۔
یاد رکھ! صرف محنت اور خدمت کافی نہیں ہے ۔ ہر گدھا گواہ ہے کہ دنیامیں محنت بلا عقل کی قدر نہیں ۔
یاد رکھ! محبت کافی نہیں ۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے ۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔ جسمانی کشش ہرگز محبت نہیں ۔ یہ چیز تو بازاری عورتوں میں بھی ہوتی ہے ۔ حقیقی اور پائیدار محبت تک پہنچنے کی راہ مقرر ہے ۔ جاہل لڑکیاں اس راہ کو نہیں جانتیں ۔ احمق لڑکیاں اس راہ کو چھوڑ دیتی ہیں ۔
اصول نمبر1۔ اصلی کام ضرورت کا پورا کرنا ہے ۔
ذرا اچھی طرح گہرا اور وسیع جائزہ لے کر تیرے شوہر کی ضروریات اور اہم ترین ضروریات( اور خواہشات) کیا کیا ہیں اور کہاں کہاں ہیں ۔ بیڈ روم میں ، ڈرائنگ روم میں، باورچی خانے میں ، کھیل کے میدان میں ، دفتر میں ، دکان میں، لائبریری میں ، سو سائٹی میں، سیاست میں اور ان میں سے کون کون سی ضرورتیں تو پوری کر سکتی ہے اور کس طرح ۔ جب تک تو اس کی ضرورت پوری کرتی رہے گی ۔ وہ تیری ضرورت پوری کرتا رہے گا ۔ اگر آپس میں ضرورت پوری ہوتی رہے گی تو آپس میں محبت بھی پوری ہوتی رہے گی ۔
حسن ۔ صحت ، جوانی ،علم ، سلیقہ، دولت وغیرہ سب بے معنی الفاظ ہیں ’ رفعِ ضرورت‘ کے سامنے ۔ بیوی ہزار حسین ، ہزار صحت مند ، ہزار تعلیم یافتہ ، ہزار با عصمت و با عفت ہو لیکن اس سے ضرورت پوری نہ ہوتی ہو تو محبت کی منزل نہیں آ سکتی اور چونکہ دل خالی نہیں رہ سکتا اس لیے لازماً نفرت شروع ہو جائے گی ۔ (جاری ہے)

اس لیے بد صورت ، بڈھی ، جاہل اور مفلس لیکن عقل مند بیویاں کامیاب ہوتی ہیں ۔ شوہر ان پر جان نثار کرتا ہے اور وہ گھر اور باہر حکومت کرتی ہیں ۔ ذرہ اتنی سی عقل کی کمی سے حسین اور پر شباب عورتیں ، خدمت ، خلوص اورجانی و مالی قربانی کرنے والی عورتیں با عصمت اور با سیرت اور با کمال عورتیں ناکام ہو جاتی ہیں اور ان کے شوہروں کو چالاک عورتیں بلکہ بازاری عورتیں اُچک لیتی ہیں ۔ یورپ امریکا میں سیکرٹری عورتوں کے مقابلے میں بسا اوقات کامیاب ہوتی ہیں ۔آخر وہ کونسی ضرورت ہے جو سیکرٹری یا بازاری عورت پورا کرتی ہے ۔ اور بیوی پورا نہیں کر سکتی جبکہ بیوی کو زیادہ مواقع حاصل ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس کا جواب صرف جنس نہیں ہو سکتا۔
اصول نمبر2۔ ضرورت جتنی شدید ہو گی اور جتنی مواتر ہو گی ، فریق ثانی کی طرف سے محبت اتنا ہی زیادہ اور اتنا ہی دیر پا ہو گی ۔
اصول نمبر 3 ۔ ضرورتیں گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہیں ، مگر بعض ضرورتیں مستقل ہیں اہم ہیں اور بنیادی ہیں ۔ بعض ضرورتیں عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں۔ اگر تیری طرف سے رفع ضرورت بھی عمر کے ساتھ بڑھتی رہی تو شوہر کی محبت بھی تیری عمر کے ساتھ بڑھتی رہے گی ۔ اگر گھٹتی رہی تو وہ بھی گھٹتی رہے گی ۔
یہ تین اصول صرف شوہر کو حاصل کرنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ تمام سسرال والوں کو بلکہ تمام دنیا والوں کو ۔
چنانچہ عزیز بیٹی!
سب سے پہلے یہ دیکھ لے کہ تجھے کس کی محبت حاصل کرنی ہے ، مستقل اور شدید محبت حاصل کرنی ہے پھر تو اس کی مادی اور ذہنی مستقل اور شدید ضرورتوں کی ایک فہرست بنا ۔ اور غور کر کہ تو ان ضرورتوں کو کس طرح پوری کر سکتی ہے ۔ یاد رکھ! بہت سے مسائل بغیر وسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں اور بہت سے مسائل صرف مادی نہیں ہوتے بلکہ ذہنی اور صرف ذہنی ہوتے ہیں۔ بیوی ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ تجھے ایک خاص مرد کو اپنانے کا موقع ملا ہے جو کسی اور ہستی کو حاصل نہیں ، چنانچہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔ تو اس سے قریب بلکہ قریب ترین ہے ۔ اس کے گھر میں ہے ۔ اس کی جلوت و خلوت میں ہے اور شب و روز ہے ۔ اس کی ضروریات اور خواہشات کو سمجھ کہ بہت سی ضروریات و خواہشات خاموش ہوتی ہیں ۔ بہتر ہے کہ وہ خاموش ہی رہیں اور تو انہیں خاموشی ہی سے پوری کرتی رہے۔ بہر کیف تو جلد ازجلد اس کی خواہشوں اور خوشیوں کا جائزہ لے کہ اس نے کس ماحول میں آنکھیں کھولیں ۔ گھر میں کس سے کیسا سلوک پایا؟ زمانے نے اسے کیسا بنایا ۔ کیسی تراش و خراش کی ۔ کن چیزوں یا کن لوگوں میں اسے دلچسپی ہے؟ کن چیزوں یا کن لوگوں سے اسے بیزاری ہے ۔ اور کیوں؟ ذرا اس کے دل میں ڈوب ، اس کے دماغ میں داخل ہو ۔ اس کے زاویہ نظر کی تحقیق کر۔ اس کی کشش ، اس کی خلش ، اس کی خوراک ، اس کی پوشاک اس کی تڑپ ، اس کی امنگ ، اس کی خود نمائی ، اس کے مسائل اور ان کے حل ، اس کے شب و روز ۔ یہاں تک کہ اس کے خواب و خیال میں پیوست ہو جا ۔ اور وہاں کے نقطہ نظر سے دنیا کو دیکھ ۔
وہ کیا تھا۔ وہ کیا ہے؟ آئندہ ایک سال یا پانچ برسوں میں وہ کیا بننا چاہتا ہے؟ ایک عاقل بیوی کا کام ہے کہ ا ن باتوں کا صحیح جائزہ لے اور جلد از جلد ۔ وہ کیا تھا؟ وہ کیا ہے؟ یہ دونوں حالات تیرے اختیار سے باہر ہیں ۔ لیکن وہ کیا بننا چاہتا ہے؟ یہاں تیری ضرورت ہے اور ہونی چاہیے ۔ زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیے ۔ تیز سے تیز ہونی چاہیے ۔ رفع ضرورت کا معیار ومقدار جتنی شدت سے ہو گا ، شوہر کی طرف سے محبت بلکہ قربانی بھی تنی ہی شدت سے ہو گی ۔
وہ کیا ہونا چاہتا ہے؟ اس کا جواب بڑی حد تک اس سوال میں مضمر ہے کہ وہ کیا تھا۔ بلکہ وہ کیا نہیں تھا تجھے اس فرق کو سمجھنے میں کسی قدر محنت کرنی پڑے گی ، کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتا تھا ، مگر نہیں کر سکا ۔ آخر کس چیز کی کمی رہ گئی اور کیا سبب؟ ظاہر ہے کہ مستقبل میں وہ اس کمی کو پورا کرنے میں اپنی تمام حسرت صرف کر دے گا ۔ اگر وہ مفلس تھا تو اب امیر بننا چاہتا ہے ۔ اگر وہ ذلیل تھا تو اب با عزت بننا چاہتا ہے ۔ اگر وہ محبت اور خدمت سے محروم تھا تو اب محبت اور خد مت چاہتا ہے ۔ اگر وہ بیمار تھا ۔ تو اب صحت چاہتا ہے ۔ وہ بے گھر تھا تو اب محل کا مالک بننا چاہتا ہے ۔ جو کچھ وہ تھا اتنا اہم نہیں تھا جو کچھ وہ نہ تھا کیوں کہ اب اس کے دل کی تمام جگہ اس تمنا نے لے لی ہو گی ۔ چنانچہ۔
اصول نمبر 4۔ وہ دنیا سے انتقام لینا چاہتا ہے ۔ بالکل جس طرح تو دنیا سے انتقام لینا چاہتی ہے ۔ ان چیزوں میں تجھے حاصل نہ تھیں ۔ بیوی کے لیے شوہر کا اور شوہر کے لیے بیوی کا دل جیت لینا بہت آسان ہے ۔ جو چیز جس کو نہ ملی اور جسے پا لینے کی اسے تمنا اور تڑپ تھی ، وہ چیز اس کو عطا کر ۔ اگر تیرے فریق ثانی کو عزت نہ ملی تو اسے بخش ۔ وہ عزت افزائی کا بھوکا ہے ۔ اگر اسے اچھا ماحول یا اچھی خوراک یا اچھی پوشاک نہ مل سکی تو اس کا بندوبست کر ۔
جو نہ مل سکا وہ دے ۔ جو کم ملا وہ بھی دے ۔ جو زیادہ ملا وہ بھی دے ۔ بے چوں و چرا دے اور مزید ایک مسکراہٹ بھی دیدے کہ ایک مسکراہٹ تمام لپ اسٹک سے قیمتی ہے اور جواب میں جو تجھے نہ ملے ۔ جو تجھے کم ملا یا خراب ملا وہ ملا وہ لے ۔ بے چوں چرا لے اور مزیدایک مسکراہٹ بھی لے دے ۔ دنیا سے انتقام لینے میں وہ تیری مدد کرے اور تو اس کی ۔ پھر نا ممکن ہے کہ تو اپنی بد صورتی کے باوجود اس کی شیریں نہ بن جائے ۔ اور وہ تیرا فرہاد بن کر پہاڑ کھودنے اوردودھ کی نہربہانے میں اپنا تن من دھن نہ لگا دے ۔
اصول نمبر 5 ۔ آہستہ آہستہ رفع ضرورت تیری عادت ہو جائے گی اور اسی پیمانے سے محبت تیرے شوہر کی فطرت ثانیہ۔
پھر ہو سکتا ہے کہ محبت کی منزل میں داخل ہو کر رفع ضرورت ، کی ضرورت نہ رہے یا چنداں نہ رہے ۔ پھر بھی ہوشیاری اور احتیاط کا تقاضا ہے کہ رفع ضرورت کو قائم و دائم رکھا جائے ۔
اصول نمبر 6 ۔ محبت کے لیے 2 اور صرف 2 اجزا کی ضرورت ہے ۔ خوش گوار مشترکہ ماضی کی یاد اور خوش گوار مشترکہ مستقبل کی طرف قدم ۔
شوہر کو اپنا مجنوں و فرہاد بنا کر یا اس کی لیلیٰ و شیریں بن کر تیری زندگی کا مقصد ختم نہیں ہوا ۔ سفرا بھی دور دراز ہے لیکن شوہر کا دل حاصل کر کے تونے ریل کا ٹکٹ لے لیا ہے اور سفر خرچ بھی ۔ جو کچھ اب تک شوہر کو نہیں ملا ۔ جس کے حصول کی اسے تڑپ اور اُمنگ ہے خدا کرے کہ تیری بدولت اسے حاصل ہو جائے ۔ اگر اسے وہ مادی اور ذہنی چیزیں حاصل ہو گئیں تو لازماً اس میں ایک نئی بات پیدا ہو جائے گی ۔ اس میں بعض نئی نئی صلاحیتیں حاصل ہو گئیں تو لازماً اس میں ایک نئی بات پیدا ہو جائے گی ۔ اس میں بعض نئی نئی صلاحیتیں پیدا ہو جائیں گی اور بعض پرانی صلاحیتیں اُبھر جائیں گی ۔ اس کی شخصیت میں ایک نکھار اور ایک بہار آ جائے گی ۔ اس کی اُمنگ میں اس کی ہمت میں اس کی محنت میں اس کی سوجھ بوجھ میں بڑی طاقت اور شدت پیدا ہو جائے گی ۔ یہ ہی وقت ہے۔ موزوں ترین وقت ہے کہ اسے کسی عظیم مقصد کی طرف لگا دیا جائے اور یہ لگا تار تیرا کام ہے ۔ پھر وہ انجن کی طرح چل نکلے گا ۔
ہر آج تیری بقیہ زندگی کا پہلا دن ہے ۔ ہر آج چوبیس گھنٹوں کے بعد کل بن جائے گا اس لیے ہر آج میں وہ چیزیں ڈال دے جو خوش گوار ماضی کی یاد بن سکیں ۔ اُٹھ کمر بستہ ہو ، ہر اذان فجر پکارتی ہے ۔ کہ نئی نئی صبح کا آغاز ہو رہا ہے ۔ نئی نئی امیدںکروٹیں لے رہی ہیں۔ نئے نئے فرائض تمہیںبلا رہے ہیں ۔ سونے والو! بیدار ہو جائو ۔ بیدار ہونے والو! کھڑے ہو جائو ۔ اور کھڑے ہونے والو! اپنے اپنے کام میں لگ جائو ۔ وقتِ فانی سرمایہ کو لا وقت کے باقی سرمایہ میں تبدیل کر لو ۔
یاد رکھ! اگر تیرا شوہر آگے نکل گیا اور تو پیچھے ہی رہ گئی تو آپس میں فاصلہ ہو جائے گا ۔ اور یہ فاصلہ بڑھتا ہی رہے گا ۔ جب رفع ضرورت نہیں ہو گی جو کہ قدم ملا کر چلنے ہی میں ممکن ہے تو محبت بھی سرد ہوتی چلی جائے گی۔ مقصد مشترک ہو ، تدبیر مشترک ہو ، اور عمل بھی مشترک ہو ،محبت اشتراک کا نام ہے ۔ ماضی میں بھی اور مستقبل میں بھی ۔
اصول نمبر 7 ۔ فیصلہ اس کا… مشورہ تیرا
اس سفرِ حیات میں برے وقت بھی آئیں گے اور اچھے وقت بھی ۔ عقل مند بیوی وہ ہے جو برے وقت میں بھی ساتھ دے اور اچھے وقت میں بھی ۔ البتہ برے وقت میں محنت اور مسکراہٹ کا صرفہ زیادہ ہے ۔
عقل مند بیوی وہ ہے جو اپنے شوہر میں نئی اسپرٹ بھر دے ۔ اس کی اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر دے ۔ ان صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا مشن دریافت کر لے اور شوہر کو آگے بڑھا کر ساتھ چل کھڑی ہو ۔
عقل مند بیوی وہ ہے جو اپنے شوہر کی زیادہ سے زیادہ اور شدید سے شدید ضرورت پوری کرتی رہے۔ خانگی سطح پر بھی اور علم و ہنر کے میدان میں بھی ۔ شوہر کے علم و ہنر سے ایک حد تک واقفیت بیوی کے لیے ضروری ہے ۔
عقل مند بیوی وہ ہے جو خلوص اور خدمت کے ساتھ ہنستا مسکراتا چہرہ رکھے ۔ خصوصاً جب کہ غم کے بادل چھائے ہوں جس کا ہر امروز بہتر فردا کی خوش خبری لائے ۔ عقل مند بیوی وہ ہے جو فیصلہ سرا سر شوہر کے ہاتھ میں دے۔ لیکن مشورے کا محکمہ اپنے ہاتھ میں رکھے ۔ اور اس کے مشورے اتنے قیمتی اور وزنی ہوں کہ شوہر کے فیصلوں کو قدم بہ قدم ان کی ضرورت پڑے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ