بچوں کی مشقت کا مسئلہ

134

تحریر
**
سیدہ وجیہہ بتول
اُردو یونیورسٹی کراچی

پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی گئی ہے مگر پھر بھی ہمیں یہ پاک سرزمین ناانصافیوں سے گھری نظر آتی ہے، یہاں ایک ایسی مخلوق آباد ہے جو فاقوں میں زندگی گزارتی ہے۔
افلاک کی بستی میں جا کر ذرا دیکھو
وہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر بچپن نہیں ہوتا
پاکستان اس وقت بہت سی مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور جو ملک پاکستان کی معیشت اور معاشرے کو برباد کررہے ہیں۔ ان میں ایک چائلڈ لیبر بھی ہے۔ چائلڈ لیبر دراصل خوبصورتی کا بدصورت چہرہ ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سی این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے کام کررہے ہیں، ناجانے پھر بھی کیوں ہمیں بسوں میں ناریل بیچتے ہوئے، قالین بنانے والی صنعتوں، زراعت، پھل فروشی، اینٹ بنانے والی بھٹیوں، اخبار بیچتے ہوئے، ہوٹلوں، ورکشاپوں میں اور کچھ ایک بورے میں کچرا اکٹھا کرتے شاپنگ مالوں کے باہر نظر آتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور اسی طرح کے لاتعداد پیشوں میں ننھے مزدور کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ننھا مزدور جب اپنا موازنہ اپنے کسی ہم عمر سے کرتا ہے تو رنج میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں چائلڈ لیبر لاز تو موجود ہیں مگر اس کی پاسداری نظر نہیں آتی۔ پولیس والے سڑکوں پر ننھے ڈرائیور کو رکشا چلاتے ہوئے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں یا رشوت یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔پاکستان میں 12.5 ملین مزدور معصوم بچے ہوتے ہیں جس کا پہلا بڑا سبب غربت ہے۔ جب ایک فرد کے کمانے سے اخراجات پورے نہیں ہوتے تو لوگ اپنے چھوٹے بچوں کو کام پر لگادیتے ہیں، دوسرا بڑا سبب ناخواندگی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی شرح 55 فی صد ہے، لوگ اپنے حقوق سے ناآشنا ہوتے ہیں اور لاعلمی میں بہت سے غیر قانونی کام کرجاتے ہیں۔ چودہ سالہ بچہ اپنی عمر زیادہ بتا کر نادرہ سے شناختی کارڈ حاصل کرلیتا ہے تا کہ کسی فیکٹری میں مزدوری کرسکے۔ سرکاری اسکول تو سستے ہوتے ہیں، لیکن اگر یہ معصوم اسکول جائیں گے تو گھر کا چولہا ٹھنڈا رہے گا۔ تیسرا بڑا مسئلہ جاگیردارانہ نظام ہے، وطن عزیز میں بہت سے ایسے درخت موجود ہیں جو اپنے زیر سایہ اُگنے والی پنیری کو بڑھنے نہیں دیتے، اسی لیے والدین اپنے بچوں کو مزدوری کی بھٹی میں دھکیل دیتے ہیں۔ جہاں یہ مزدور صرف مزدوری ہی نہیں کرتے بلکہ مالکان کے عتاب کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ مالکان میں بہت سی ایسی شخصیات موجود ہوتی ہیں
جن کے چہروں کو میڈیا جب بے نقاب کرتا ہے تو بہت خوشی ہوتی ہے مگر کچھ عرصے میں ہی معاملہ رفع دفع ہوجاتا ہے اور معصوم کی آہیں اور سسکیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ جب یہ ننھا مزدور چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ۔کمانے نکلتا ہے تو کچھ حوس کی آنکھوں کا نشانہ بنتا ہے۔ یہی نہیں کچھ لوگ مزدوری کے بدلے میں نشہ اور جرم کی لت دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہی معصوم جیل کی سلاخوں میں بھی حاضری دیتا ہے اور وہاں مزید منفی سوچ کو پروان چرھاتا ہے اور ایک مجرم بن جاتا ہے۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے یہ مجرم جیل میں رہتا ہے کیوں کہ وکیل کی فیس کی ادائیگی مشکل ہوتی ہے، بہت سی این جی اوز اس مسئلے کے حل کے لیے کام کرتی ہیں مگر بالآخر جیل سے ایک مجرم ہی رہا ہوتا ہے۔آج کے سیاست دان ایک بوری آٹا ان غریبوں میں بانٹ کر فوٹو بنوا کرفرار ہوجاتے ہیں۔ کوئی ان سے یہ پوچھے کہ ایک بوری آٹا سے زندگی گزرتی ہے یا سنورتی ہے۔ ان مزدوروں نے ہمیشہ ارمانوں کا جنازہ ہی نکلتے دیکھا ہے۔ جن کو کندھا یہ سیاست دان اور قانون سازی کرنے والے ادارے دیتے ہیں، خدا کی قسم بیٹھ جائے ذرا کوئی کسی ننھے مزدور کے ساتھ فلسفیوں والی باتیں کرتا ہے۔ اگر کوئی خوشی سے سو پچاس زیادہ دے دے تو کہتا ہے کہ صاحب جتنی مزدوری بنتی ہے اتنی دو ہم بھکاری تو نہیں ہم حلال کھاتے ہیں۔ جن بچوں کی عمر اسکول جانے کی ہوتی ہے وہ مزدوری کررہے ہوتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ معصوم تو اپنا بچپن تو اس لیے فروخت کردیتے ہیں کہ جنگلی درندوں سے ماں بہنوں کی عصمت محفوظ رہے اور اپنے گھر کے واحد کفیل بن جاتے ہیں۔
وہ سب معصوم سے چہرے تلاشِ رزق میں گم ہیں
جنہیں تتلی پکڑنا تھی جنہیں باغوں میں گھومنا تھا
ان ننھے مزدوروں کا فائدہ اس ملک کے بہت سے تخریبی عناصر اُٹھاتے ہیں جو ان مزدور بچوں کو گداگری کی ہتھ کڑیاں پہنا دیتے ہیں اور پھر وہ ہاتھ جو مستقبل میں بہت کچھ کرسکتے ہیں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر اتنا عام ہے کہ غیر ملکیوں نے اس پر کتابیں لکھی ہیں۔ جن پر انہوں نے پاکستانی بچوں پر کام کے دوران ہونے والے تشدد کے بارے میں ثبوت اور حوالے کے ساتھ اس طرح لکھا ہے کہ پڑھنے والا اپنے حواس کھو دے۔ اب ذرا غور کیجیے وہ کتابیں جو حقیقت بیان کرتی ہیں ان کے ذریعے ہمارا دوسرے ممالک تک کیا تاثر جاتا ہے۔ یہی کہ ہم ظالم قوم ہیں اور ننھے مظلوموں پر ظلم ڈھاتے ہیں صرف چند عناصر اور نااہل سیاستدانوں کی وجہ سے ہمارے ملک کی ترقی و خوشحالی کا گراف نیچے گر جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ