عالمی استعمار ترکی کے پر کاٹنے کی سازش میں مصروف

241

امریکا کی خواہش رہی ہے کہ عرب ریاستوں کو اتنا کمزور کردیا جائے کہ وہ مستقبل میں اسرائیل کے سامنے سر نہ اٹھا سکیں اور خطے میں صہیونی بالادستی قائم ہو
سمیع اللہ ملک

گزشتہ 7 برس سے شام میں جاری خانہ جنگی 2017ء کے اختتام پرکافی مدھم پڑچکی تھی جس کے بعدیہ امیدپیداہورہی تھی کہ بالآخرمسلم خون کی ارزانی کا سلسلہ اب بندہو جائے گااورفریقین کسی بہترین مصالحتی معاہدے پرمتفق ہوکرپرامن مستقبل کی تعمیرمیںمصروف ہوجائیں گے لیکن گزشتہ ہفتے جب ترکی فوجی دستے شمالی شام کے قصبے عفرین میں داخل ہوئے توکردمسئلہ ایک مرتبہ پھرنمایاں ہوگیا۔ ترکی کے مطابق شام کے شمالی علاقوں سے ترکی کی علاحدگی پسندکرد پارٹی پی کے کے کومددفراہم کی جاتی ہے۔ انہی علاقوں میں امریکی فوج بھی موجودہے جوبظاہرداعش سے نمٹنے کی دعویدارہے۔ ترکی کامؤقف یہ ہے کہ امریکا،برطانیہ اورفرانس سمیت دیگرعالمی طاقتوں نے ترکی کی سرحدکے قریب شامی شہرعفرین میں کردباغیوں کوہتھیارفراہم کرکے جنگ کی آگ کومزیدبھڑکاتے ہوئے خانہ جنگی کومزید ابھارا اوراس کاجوازداعش کی موجودگی کوقراردیا جبکہ ترکی نے مضبوط شواہدکی بنا پرامریکااوراس کے اتحادیوں کے اس مؤقف کومستردکردیااورعفرین میں اپنی فوج داخل کردی۔

2
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترکی نیٹو کا 65 سال پرانا رکن اور ایک اہم ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی فورس کے امریکی منصوبے کے حوالے سے نیٹو سے مشورہ نہیں کیا گیاجبکہ16 جنوری کو ہونے والی ملاقات میں ترک صدر اِردوان نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل پر واضح کردیا تھاکہ ترکی شام میں ’شامی جمہوری فورسز‘ کی قیادت میں کوئی فوج برداشت نہیں کرے گا اور حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ترکی اپنی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ اس سے قبل 16 جنوری کو ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے وینکوور میں اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن سے ہونے والی ملاقات میں واضح کیاکہ شمال مغربی شام میں کرد ملیشیا کی قیادت میں سرحدی محافظوں کی فورس قائم کرنے کا امریکی منصوبہ ترکی کے ساتھ اس کے تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ شام میں موجود کرد فورسز کے خلاف ترکی کی احتیاطی تدابیرصرف شمال مغربی شہر عفرین تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ منبج شہر اور دریائے فرات کے مغرب تک پھیل سکتی ہیں۔ہم نے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ ہم ادلب میں موجود اپنے فوجیوں اورفری سیرین آرمی پر ’وائی پی جی یا پی کے کے‘ کے حملوں کا جواب دیں گے ۔ پینٹاگون، امریکی سینٹرل کمانڈ اور دیگر اہم امریکی اداروں اور وزارتوں کے درمیان وائی پی جی اور ایس ڈی ایف کی مدد کرنے کے معاملے پر اختلافِ رائے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

3
امریکا کی طرف سے وائی پی جی کی امداد اور ترکی کی طرف سے امریکا میں موجود فتح اللہ گولن کی حوالگی کی درخواست جیسے معاملات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو پہلے ہی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے دوٹوک الفاظ میں ٹلرسن سے کہا تھاکہ معاملہ (کرد سرحدی محافظ دستہ)بہت سنجیدہ ہے۔ یہ دو معاملات ہمارے تعلقات کے لیے خطرہ ہوسکتے ہیں اور ہمیں ناقابل ِواپسی راستے پر لے جاسکتے ہیں۔ امریکاکوماضی میں منبج اور رَقہ میں داعش کے خلاف ایس ڈی ایف کی امداد کااپنایہ وعدہ پوراکرنا چاہیے کہ شہروں کو داعش سے آزاد کروانے کے بعد وائی پی جی کی جگہ مقامی کونسل شہروں کا نظام چلائیں گی اوراب منبج اور رقہ کے بارے میں کیے گئے وعدوں کا پاس نہیں رکھا گیا۔امریکا کا ماضی میں کہنا تھا کہ پی وائی جی یا پی کے کے اس کے اتحادی نہیں ہیں اور وہ صرف داعش کو شکست دینے کے لیے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس لیے اب و ہ اس گروپ کی حمایت بند کرکے انہیں غیرمسلح کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس شک کرنے اور اپنی احتیاطی تدابیر کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔
دریں اثنا امریکی قیادت میں داعش کے خلاف بننے والے اتحاد کے ترجمان ریان ڈِلون نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عفرین اس اتحاد کی عمل داری میں نہیں آتا۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کو بھیجے گئے تحریری بیان میں ریان ڈِلون نے کہا اتحاد کا مقصد عراق اور شام کے مقررہ علاقوں میں داعش کو شکست دینا اور خطے کے استحکام کے لیے حالات سازگار بنانا ہے ۔اسی روز پینٹاگون کی طرف سے کہا گیا کہ امریکا عفرین میں پی وائی ڈی کی حمایت نہیں کرتا اور اس کو داعش کے خلاف لڑائی کا حصہ نہیں سمجھتا۔ پینٹاگون کے ترجمان میجر اڈریان نے اناطولیہ کو بتایا ہم انہیں داعش کے خلاف کاروائیوں کاحصہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی ان کی حمایت کرتے ہیں۔اس سے قبل پینٹاگون نے کہا کہ امریکا شام میں سرحد کی حفاظت کے متعلق ترکی کے خدشات کو تسلیم کرتا ہے اور آئندہ ترکی کے ساتھ قریبی رابطے رکھے گا۔
عفرین شام کے شمال مغرب میں حلب سے 63 کلومیٹرکی مسافت پر ایک اہم اور بڑا شامی شہرہے جس کی آبادی ساڑھے 3 لاکھ سے زائد اور زیادہ ترکردوں پرمشتمل ہے۔ کرد دراصل مشرقِ وسطیٰ کے شمال میں رہتے ہیں، ان کی کل تعداد3 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ان میں 56 فیصدترکی، 16 فیصد ایران، 15 فیصدعراق اور 6 فیصدشام میں مقیم ہیں جبکہ آرمینیا،لبنان،کویت اوریورپ سمیت دنیاکے 30 ممالک میں مقیم ہیں۔ نومبر 1978ء میں ترکی کے اشتراکی نظریات کے حامل کردوں نے قومیت کی بنا پر ’پی کے کے‘ قائم کی جس کاہدف ترکی سے کردوں کی آزادی ہے تاکہ بعدازاں بڑاکردستان بنایا جاسکے۔ ترکی نے شروع دن سے ’پی کے کے‘ کوباغی اوروطن دشمن قراردے رکھاہے لیکن امریکااوراس کے اتحادی داعش کوخطرہ قرار دے کر انہیں اسلحہ بلکہ تربیت بھی دے رہے ہیں۔ ’پی کے کے‘کے ساتھ کردباغیوں کی دیگرتنظیمیں ’کے سی کے‘’وائی جی پی اور’ پی وائی ایل‘بھی شام سے ترکی میں کاروائیاں کرتی ہیں۔ ترک حکومت کے بقول عفرین میں موجودباغیوں نے 700 سے زائدمرتبہ ترکی کی سرحدی علاقوں پرحملے کیے جبکہ 20 جنوری 2018ء کوان تمام باغی تنظیموں نے شام سے ایک بھرپورحملہ کیاجس کے بعدترکی نے مزیدایسی کاروائیوں کے انسداد کے لیے فوری طور پر فوجی آپریشن کاآغازکردیا۔
امریکا، برطانیہ اورفرانس نے ترکی کے اس آپریشن کے خلاف سخت احتجاج کیا لیکن ترکی نے ٹھوس دلائل کی بنا پریہ احتجاج مستردکردیا۔اس وقت شام میں دوبڑے اتحاد برسرپیکار ہیں جن میں ایک طرف روسی اتحاد میں ایران، ترکی اورچین شامل ہیں جبکہ دوسری طرف امریکا، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اسرائیل شامل ہیں لیکن روسی اتحادکاپلڑانسبتاًبھاری ہے۔ امریکانے یکم فروری 2018ء کوبشارالاسداورداعش کے پاس کیمیائی ہتھیارہونے کادعویٰ کرکے ان کے خلاف اپنی کاروائیوں کوجوازمہیاکرنے کی کوشش کی ہے لیکن کردبھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آزادکردستان کے حوالے سے امریکی مؤقف مبہم ہے۔اندرونِ خانہ امریکاکی خواہش رہی ہے کہ عرب ریاستوں کااتناکمزورکردیاجائے کہ وہ مستقبل میں نہ صرف اسرائیل کے سامنے سرنہ اٹھاسکیں بلکہ خطے میں اسرائیلی بالادستی قائم رکھی جاسکے۔
کردعلاقوں میں امریکی مداخلت پرترکی کوہمیشہ تحفظات رہے ہیں اورترکی کوخدشہ ہے کہ امریکادرپردہ کردوں کی آزادی کی حمایت کررہا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شمالی شام کے کردعلاقوں میں ترکی اورامریکاکی افواج صرف چندکلومیٹرکے فاصلے پرموجودہیں اوردونوں کے اہداف مختلف ہیں۔ ترکی اورشام میں عسکری مداخلت کوروس کی مکمل حمایت حاصل ہے ،یہی وجہ ہے کہ شام نے ایک مرتبہ پھر ’غوطہ شہر‘پرخوفناک بمباری کرکے قیامت صغریٰ برپاکردی ہے جس پرامریکااوراس کے اتحادی مکمل خاموش ہیں۔ روس شام کے شمالی علاقوں کی آزادی کامخالف ہے جبکہ دمشق،بغداد،تہران اورانقرہ بھی آزادریاست کے مخالف ہیں۔ یوں بظاہر ایک توازن قائم ہے لیکن حالات کے پلٹنے کے امکانات کوبھی ردنہیں کیاجاسکتاکیونکہ طاقتورممالک اپنے مفادات کے اسیرہوتے ہیں۔انہیں عام لوگوں اوراملاک کے نقصانات کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔
صدر اِردوان کی قیادت میں ترکی نے اقتصادی ترقی اورمضبوط معاشی اہداف کے حصول کے بعدنہ صرف تمام غیرملکی قرضوں سے نجات حاصل کرلی بلکہ ایک بہترین جی ڈی پی کی حامل معیشت کے ساتھ دنیامیں ایک ممتازحیثیت اختیار چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عالمی استعمارمتحدہوکر ترکی کے پرکاٹنے کے لیے شب وروزسازشوں میں مصروف ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ