چیف جسٹس سینیٹ انتخابات میں کرپشن کا نوٹس لیں متناسب نمائندگی ہی انتخابی کرپشن روکنے کا واحد زریعہ ہے سراج الحق

382
کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق میٹ دی پریس سے خطاب کررہے ہیں
کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق میٹ دی پریس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں کرپشن اور دولت کی ریل پیل کا نوٹس لیں او رایوان بالا کے انتخابا ت کو شکوک و شبہات سے دور کرنے کے لیے تمام منتخب سینیٹرز سے ایوان میں حلف اٹھانے سے قبل بیان حلفی لیا جائے کہ انہوں نے کامیاب ہونے کے لیے ووٹ خریدا ہے یا نہیں ، جو سینیٹر بیان حلفی دینے کے لیے تیار نہ ہواس کو سینیٹ کا حلف نہ اٹھانے دیا جائے۔ جماعت اسلامی اپنے منتخب سینیٹرکو سب سے پہلے پیش کرے گی ۔ کراچی کی نمائندگی کرنے والوں نے اپنے ووٹ فروخت کیے ہیں اورکراچی کی عزت اور مینڈیٹ کا سوداکیا ، عوام حق بجانب ہیں کہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے اپنا ووٹ کتنے میں فروخت کیا۔ ملک کو کرپشن فری بنانے کے لیے سیاست سے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے۔ کمزور جمہوریت کا علاج مضبوط جمہوریت ہے ۔ جمہوریت اور انتخابات مسائل کا واحد حل ہیں اس کے سوا کوئی اور حل قبول نہیں ۔ پیٹرول کی قیمتوں میں گزشتہ 6ماہ سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے اسے ہم مسترد کرتے ہیں ، اس کی مذمت کرتے ہیں
اور اس حوالے سے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے لیے وکلا سے مشورہ کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ کراچی یوتھ الیکشن کے ذریعے نوجوانوں کی قیادت کو آگے لائیں گے اور نوجوانوں کو منظم اور متحرک کر کے ایک قوت اور طاقت بنائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کی دعوت پر میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ میٹ دی پریس سے کراچی پریس کلب کے صدر احمد خان ملک اور سیکرٹری مقصود یوسفی نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ، مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر سرفراز احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔کراچی پریس کلب کے صدر احمد خان ملک نے سراج الحق کو کراچی پریس کلب کا سوینئر پیش کیا جبکہ جوائنٹ سیکرٹریز نعمت خان اور عارف ہاشمی نے سراج الحق کو گلدستہ پیش کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ کی بنیاد پر الیکشن نہیں سلیکشن ہوا ہے ، اغوا برائے تاوا ن کا کھیل کھیلا گیا ہے جو سیاست اور جمہوریت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے ۔ ملک اور سیاست کو سیاسی و مالی کرپشن کے خاتمے کے لیے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ عدالت عظمیٰ میں ہم نے پاناما میں آنے والے 436افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اپیل دائر کی تھی ۔ ہمارا آج بھی یہی مؤقف ہے کہ بلا امتیاز اور بے لاگ سب کا احتساب کیا جائے ۔ نیب کے اندر 150سے زائد میگا اسکینڈلز اور مقدمات موجود ہیں لیکن نیب ان کے خلاف کچھ نہیں کررہا۔ کرپٹ عناصر سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر پلی بارگیننگ قوم کے ساتھ مذاق ہے ۔ کسی ادارے کو قومی دولت لوٹنے والوں کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے ، ایک ریٹائرڈ ایڈمرل کو امریکا سے لایا گیا اور پلی بارگیننگ کر کے اسے ملک کے اندر شہزادوں کی طرح پورے اعزاز کے ساتھ رکھا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور معاشی دہشت گرد ایوانوں ، اداروں اور سیاست میں موجود ہیں ان ہی لوگوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے ۔ قومی اداروں کو تباہ و برباد کیا ہے۔ اسٹیل مل اور پی آئی اے جیسے نفع بخش اور حساس ادارے ان ہی لوگوں نے تباہ و برباد کیے ۔ اسٹیل مل کے ملازمین کو 6ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں ۔ملازمین کا استحصال کیا جارہا ہے لیکن اداروں کو تباہ و برباد کرنے والے چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں پکڑا جارہا ۔ اسٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کی ہم نے پہلے بھی مخالفت اور مزاحمت کی تھی اورآئندہ بھی کریں گے ۔اسٹیل مل کے ملازمین کی تنخواہیں فی الفور ادا کی جائیں۔ سراج الحق نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ایم کیو ایم نے کراچی کی عزت اور مینڈیٹ کو فروخت کیا جو کراچی کے عوام کے ساتھ بڑا سانحہ ہے اور پیپلز پارٹی نے تو کمال ہی کردیا زرداری کی کرامات نے اپنوں ہی کو نہیں بلکہ مخالفوں کو بھی رام کرلیا ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کی واحد جماعت ہے جس کے اندر جمہوریت کے ہونے کا اعتراف قومی اور بین الاقوامی طور پر سب کرتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ملک کی دیگر جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہے ۔ ہم نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا تھاکہ جس طرح دیگر انتخابات اس کی نگرانی میں ہوتے ہیں اس طرح انٹراپارٹی الیکشن بھی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کرائے جائیں ۔ جمہوریت اور سیاست کے اندر دھونس ، دھمکی ، دھاندلی اور کرپشن ختم نہ کی گئی تو عوام کا ووٹ پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ عدالت عظمیٰ کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو قسم کھانے کی ضرورت نہیں ، ان کے فیصلے شفاف اور بے لاگ ہونے چاہییں ، ایسا ہوگا تو پوری قوم ان کی پشت پر ہوگی ۔ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو کرپشن سے پاک پاکستان دیں ۔ سراج الحق نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی اور نظریاتی شہ رگ ہے ۔ عالم اسلام اور امت کا ترجمان شہر ہے لیکن اسے ایک منصوبے کے تحت تباہ و برباد کیا گیا۔کراچی کے شہری آج بجلی اور پانی سے محرو م ہیں ۔ سڑکیں تباہ ہیں ، جگہ جگہ کچرے اور کوڑے کے ڈھیر ہیں ، نوجوانوں کو روزگار میسر نہیں اس سب کی ذمے داری ان لوگوں پر ہے جویہاں 30سال سے مسلط ہیں، آج یہ آپس میں لڑرہے ہیں اور عوام کے لیے نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لیے لڑرہے ہیں ۔ جماعت اسلامی شہر میں متبادل قوت کے طور پر موجود ہے ۔ عوامی مسائل پر جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی ہے ۔کے الیکٹرک اور نادرا کے خلاف عوامی جدوجہد سے شہریوں کو ریلیف دلایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کو موقع ملا تو ایک بار پھر عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان کی طرح عوام کی خدمت کریں گے ۔ کراچی کو ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے ، نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب دیں گے اور ایک بار پھر کراچی کے سر پر امامت اور قیادت کا تاج رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اس لیے مسئلہ کشمیر کے نام پر جتنی بھی کمیٹیاں بنادی جائیں کوئی فرق نہیں پڑے گا ، حکومت مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ واچ لسٹ میں پاکستان کا نام آنا ہماری خارجہ پالیسی اور وزارت خارجہ کی ناکامی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل بحال ہوچکی ہے ۔ 12مارچ کو سربراہی اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دینی جماعتوں کے سارے ووٹ بینک ایک صندوق میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کو کامیاب ہوتا ہر پاکستانی دیکھنا چاہتا ہے، یہ ایک بہت اچھا اور مثبت منصوبہ ہے ۔ضروری ہے کہ اس میں کمزور و پسماندہ علاقوں کو بھی حصہ دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ