مشرقی غوطہ پر بمباری جاری ،مزید ہلاکتیں ،اسپتال تباہ 

104
دمشق: عفرین میں کرد فورسز اور ان کی حامی ملیشیاؤں کے خلاف ترک فوج کی کارروائیاں
دمشق: عفرین میں کرد فورسز اور ان کی حامی ملیشیاؤں کے خلاف ترک فوج کی کارروائیاں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی فوج کی مدد سے شامی بری فوج ملکی دارالحکومت کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں داخل ہو گئی ہے۔ شامی مبصرین برائے انسانی حقوق نے تصدیق کردی۔ تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمن کے مطابق حکومتی فوج اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ 48 گھٹنوں میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں تاکہ محصور علاقے کے مرکزی قصبے دُوما کو بقیہ علاقے سے کاٹ کر رکھ دیا جائے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں بشار الاسد انتظامیہ کی جانب سے مشرقی غوطہ میں سلامتی کونسل کی قرار داد اور روس کے اعلان کردہ 5 گھنٹوں کی فائر بندی کے باوجود فضائی و زمینی حملوں میں 23 شہری لقمہ اجل بن گئے ۔ مشرقی غوطہ کے شہری دفاعی مرکز کے مطابق اسد انتظامیہ اور اس کے حمایتیوں نے ہفتے کی صبح سے دوپہر تک مشرقی غوطہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں پر بمباری سے مزید 23 شہری شہید ہو گئے ۔ اس طرح مشرقی غوطہ میں 19 فروری اور 2 مارچ کے دوران شہری ہلاکتوں کی تعداد 697 ہو گئی ہے۔ دریں اثنا فرانس میں قائم عالمی امدادی تنظیم ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں مشرقی غوطہ میں واقع زچہ وبچہ کے ایک اسپتال کو گولہ باری سے تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ تنظیم نے مزید لکھا ہے کہ ان کی امداد معدوم ہوتی جارہی ہے۔ اُدھر شام کے شمال مغربی شہر عفرین کے علاقے کفر جنہ پر ترک فوج کے فضائی حملے میں بشارالاسد کی حکومت کے وفادار 36 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ وہ شامی کرد ملیشیا کی حمایت میں ترک فوج کے خلاف لڑ رہے تھے ۔ شامی مبصرین برائے انسانی حقوق کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹے میں ترکی کا یہ تیسرا فضائی حملہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ