برکینا فاسو: سفارتخانے اور ملٹری ہیڈکوارٹرز پرحملہ‘ 28ہلاک

132
واگادوگو: عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد ملٹری ہیڈکوارٹرز اور دیگر اہم عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا ہے
واگادوگو: عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد ملٹری ہیڈکوارٹرز اور دیگر اہم عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا ہے

واگادوگو(انٹرنیشنل ڈیسک)مغربی افریقا کے ملک برکینا فاسو کا دارالحکومت واگادوگودہشت گردی کے واقعے سے لرز اٹھا۔خبررساں ادارے کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کے دوران فرانسیسی سفارت خانے اور ملٹری ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔شہری حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں سے 4کو فرانسیسی سفارت خانے،جب کہ 2کو ملٹری ہیڈکوارٹرز میں کارروائی کے دوران ہلاک کردیا گیا۔اس حملے کے خلاف آپریشن میں بڑی تعداد میں فوجی اور پولیس اہل کار مارے گئے۔ خبررساں ادارے رائٹر ز کو انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران 2پولیس اہل کاروں سمیت 28 ہلاک،جب کہ 90افراد زخمی ہوئے۔حکام نے 7سیکورٹی اہل کاروں اور 8عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا بتایا ہے۔ حملے کی ذمے داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی، جس کے باعث حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ اس دوران شہر میں ایمرجنشی نافذ کردی گئی۔ فرانسیسی حکام نے اپنے بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت خانے کے حالات اب کنٹرول میں ہیں۔برکینا فاسو کے وزیراطلاعات ریمیس فالگنس ڈین جینونے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا واقعہ ملکی امن کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے،لیکن یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے کے بعد بھی دیر تک شہر میں فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں،جس کے بعد پولیس نے ایک حملہ آور کو شہر کی بڑی مارکیٹ سے حراست میں لے لیا۔واگادوگو کے میئر نے فرانسیسی اخبار کو بتایا کہ دہشت گردوں نے ان کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا اور گولیوں کی زد میں آکر کھڑکیوں کے شیشے چکنا چور ہوگئے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ہم نے سادہ لباس میں ملبوس 4آدمیوں کو دیکھا کہ وہ سفارت خانے میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ ان کے پاس بڑے بڑے بیگ بھی تھے،جن سے کلاشنکوف واضح طور پر جھلک رہی تھیں۔ مرکزی دروازے پر ناکام ہوکر انہوں نے مغربی دروازے سے کوشش کی۔عینی شاہد کے بیان کہ دہشت گردوں نے پہلے ایک گاڑی کو آگ لگائی، پھر اس کے بعد اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔واضح رہے کہ واگادوگومیں گزشتہ2 برسوں کے دوران دہشت گردی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
برکینافاسو/ حملہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ