سینیٹ انتخابات کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ

268

سینیٹ میں ملک کے چاروں صوبوں، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت کی 52 نشستوں پر پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے جس کے لیے 131 امیدوار میدان میں ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی اور ملک کی چاروں اسمبلیوں میں سینیٹ کی 52 نشستوں پر پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ اراکین شام 4 بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کے انتخابی عملے نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قائم پولنگ اسٹیشن کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

سینیٹ انتخابات میں چاروں صوبوں کی 7، 7 جنرل نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، اسی طرح ہر صوبے سے خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 2، 2 نشستوں پر امیدواروں کا چناؤ ہوگا، سینیٹ میں اقلیتوں کی 2، فاٹا کی 4 اور اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لئے بھی مختلف جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیں، اسلام آباد کی ایک نشست جنرل اور دوسری ٹیکنوکریٹ کے لئے مختص ہے، متعلقہ اسمبلی کے ممبران ترجیحی بنیادوں پر خفیہ رائے شماری دیں گے جس امیدوار کو زیادہ ترجیحی ووٹ ملیں گے وہ سینیٹر بن جائے گا۔

بلوچستان میں جنرل نشست پر سینیٹر کے انتخاب کے لئے 9 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون نشست کے لئے 33، 33 ووٹ درکار ہوں گے۔ خیبرپختونخوا سے جنرل نشست پر سینیٹر بننے کے لئے اٹھارہ ووٹ درکار ہوں گے، ٹیکنو کریٹ اور خاتون کی مخصوص سیٹ کے لیے 62، 62 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔ سندھ سے جنرل نشست کے لیے 24 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون کی نشست کے لئے 84، 84 ووٹ درکار ہوں گے۔

پنجاب سے ایک جنرل نشست کے لئے 53 ووٹ ڈالے جائیں گے، خاتون اور ٹیکنوکریٹ کی نشست کیلئے امیدواروں کو 186، 186 ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔ فاٹا کی چار نشستوں کے لئے قومی اسمبلی میں موجود 11 ارکان ووٹ دیںگے، ہر رکن  چار امیدواروں کو ووٹ دے سکے گا، 5 یا اس سے زائد امیدواروں کو ووٹ دینے والے کا ووٹ مسترد کردیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ