سینیٹ الیکشن پنجاب سے (ن) لیگ کے حمایت یافتہ 11 امیدوار کامیاب

293

ایوان بالا کی 52 نشستوں کیلئے 131 امیدوار میدان میں ہیں۔

سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پنجاب سے (ن) لیگ کے حمایت یافتہ 11 امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔

سینیٹ کی 52 نشستوں پر 113 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ کامیاب امیدوار 6 سال کے لیے ملک کے ایوان بالا سینیٹ کے رکن منتخب ہوجائیں گے۔ قومی اسمبلی اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 9 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 4 بجے تک بلا تاخیر جاری رہی۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد اسمبلیوں کے دروازے بند کردیے گئے اور اب الیکشن کمیشن کا عملہ ووٹوں کی گنتی میں مصروف ہے۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پنجاب سے سینیٹ کی 12 میں سے 11 نشستوں پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔ جنرل نشست پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ ڈاکٹر آصف کرمانی، رانا مقبول احمد، زبیر گل، شاہین خالد بٹ ، مصدق ملک اور ہارون اختر کو کامیابی حاصل ہوئی۔ ٹیکنو کریٹ سیٹ پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور حافظ عبدالکریم کو فتح حاصل ہوئی۔ اقلیتوں کی نشستوں پر کامران مائیکل جبکہ خواتین کی نشستوں پر سعدیہ عباسی اور نزہت صادق کامیاب ہوئیں۔ ایک جنرل نشست پر رانا محمود الحسن اور چوہدری سرور کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

اسلام آباد سے جنرل نشست پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ اسد جونیجو اور ٹیکنوکریٹ پر مشاہد حسین سید کامیاب ہوگئے۔ سندھ اسمبلی سے اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے انور لال ڈین اور خواتین کی مخصوص نشست پر پی پی پی کی ہی کرشنا کوہلی کامیاب ہوگئیں۔

فاٹا کے 4 امیدواروں کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا ہے جن میں ہدایت اللہ ،ہلال الرحمن، شمیم آفریدی اور مرزا محمد آفریدی شامل ہیں۔ چاروں امیدوار آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے سات سات ووٹ حاصل کئے۔ قومی اسمبلی میں فاٹا کے 8 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا جبکہ 3 ارکان نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا جن میں غالب خان، قیصر جمال اور شہاب الدین شامل ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں 294 ووٹ کاسٹ کیے گئے۔ ن لیگ کے 227 ارکان اور ایم کیو ایم کے 11 ارکان نے ووٹ ڈالے۔ اسلام آباد کی 2 نشستوں کیلیے 250 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ بلوچستان اسمبلی میں تمام 64 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ پنجاب اسمبلی کے 368 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ سندھ اسمبلی میں 115 ووٹ ڈالے گئے۔ خیبرپختون خوا اسمبلی میں 122 ارکان اسمبلی نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ آخری ووٹ جماعت اسلامی کے محمد علی نے کاسٹ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email