سری دیوی کے لیے رحمت کی دعا کرنا غیر شرعی ہے،سعودی اسکالر

407

سعودی عرب کے معروف دانشور شیخ ڈاکٹر الغامدی نے سوشل میڈیا پر سری دیوی کے حوالے سے جاری اس بحث کو یہ کہہ کر نمٹا دیا جس میں اسے رحمت کی دعائیں دینے نہ دینے پر موافق مخالف گروہ پیدا ہو گئے تھے کہ کسی بھی غیر مسلم کو اسکے مرنے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دعائیں دینا جائز نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں شیخ الغامدی کا کہنا تھا کہ غیر مسلموں کو مرنے پر رحمت کی دعائیں دینے کی مخالفت کو شدت پسندی شمار کرنا درست نہیں۔ بعض لوگ اس حوالے سے شرعی حکم کو شدت پسندی اور اسلام کی بابت غلط تصورات کی ترویج کا نام دے رہے ہیں۔ یہ کسی طور درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن پسند زندہ غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک اچھی بات ہے۔ قرآن کریم نے ہمیں اسکا حکم دیا ہے۔ مر جانے والے غیر مسلموں اور معاشرے میں زندہ سلامت غیر مسلموں کے درمیان فرق کیا جانا ضروری ہے۔ اگر کسی مسلمان کے رشتہ دار غیر مسلم ہوں، کسی مسلمان کی بیوی عیسائی یا یہودی ہو یا کسی مسلمان کے پڑوسی اور ملنے جلنے والے غیر مسلم ہوں تو ان کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آنا، بہترین طرز معاشرت اختیار کرنا یا ان کے دکھ سکھ میں اچھے طریقے سے پیش آنے سے منع نہیں کیا گیا۔

اسلام نے اس بات سے منع کیا ہے کہ اگر کسی غیر مسلم کا انتقال ہو جائے تو اسکے گناہوں کی مغفرت کی دعا کی جائے یا اس کیلئے رحمت کی دعائیں مانگی جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایسا کرنے سے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تک کو منع کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر الغامدی نے توجہ دلائی کہ اگر کوئی شخص کسی غیر مسلم کے مرنے پر اس قسم کی دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ نرمی کے معاملے اور جنت میں داخلے کی دعا کے درمیان فرق کیا جائے۔ رحم کھانے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ غیر مسلم کو کفراور شرک کے باوجود دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ