اعتدال پسندی کاعقیدہ قرآن و سنت کی دین ہے،لبرل کی نہیں،سعودی وزیر اسلامی امور

204

سعودی وزیر اسلامی امور شیخ صالح آل الشیخ نے لبرل عناصر کے خلاف تیز و تند لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ لبرل حضرات شیطانی مکرو فریب سے کام لیتے ہیں۔

جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں امیر خالد الفیصل مرکز برائے اعتدال کے زیر اہتمام لیکچر دیتے ہوئے آل الشیخ نے کہا کہ لبرل اور سوشلسٹ عناصر اعتدال کے نظریئے کو خود سے منسوب کرکے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر کہ اعتدال کا تصور ان کا دین ہے معاشرے کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اعتدال قرآن و سنت سے ماخوذ ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتدال کا حدوداربع متعین کررکھا ہے۔

آل شیخ نے توجہ دلائی کہ لبرل حضرات اعتدال کی اصطلاح اس انداز سے استعمال کررہے ہیں گویا یہ انکی تخلیق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتدال پسندی قرآن و سنت کا آسمانی حکم ہے۔ یہ عصر حاضر کی پیداوار نہیں۔ یہ نئی اصطلاح نہیں۔ قرآن و سنت سے ماخوذ عقیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبرل اور سوشلسٹ نظریات رکھنے والے اعتدال کے حوالے سے معرکہ بازی کررہے ہیں۔ ہمارے یہاں اسلام میں ایک عظیم اصطلاح ہے جسے تجدید کہا جاتا ہے۔ تجدید دین سے مراد مسلمہ غیر متزلزل اصولوں میں ردوبدل یا ترمیم نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں اسلامی عقائد کے حوالے سے پیدا ہوجانے والی خرافات اور ذہنی آلودگی کو صاف کرنے کا نام تجدید ہے۔

آل شیخ نے کہا کہ سیکولرازم اور لبرل ازم دو نظریئے ہیں۔ سیکولرازم کے تحت دین کو زندگی سے جدا کیا جاتا ہے اور اقدار میں دین کی مداخلت پر روک لگائی جاتی ہے۔ جہاں تک لبرل ازم کا تعلق ہے تو یہ کھلی آزادی کا نام ہے۔ اسلام اس کے خلاف ہیں۔ اسلام دین بھی ہے اور دنیا بھی۔ اسلام میں دین اور دنیا کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ