جماعت الدعوۃاور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے اثاثے منجمد

262

اسلام آباد/لاہور(آن لائن+لاہور (نمائندہ جسارت) وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃاور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے اثاثے منجمد کردیے۔دونوں تنظیموں کی 170جائداد سرکاری تحویل میں لے کر ایمبولینسز انجمن ہلال احمر کے سپرد کردی گئی ہیں، 40 ویب سائٹس بھی بند کردی گئی
ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے پہلے جماعت الدعوۃاور اس کے ذیلی اداروں کو عطیات اور چندہ دینے پر مکمل پابندی عائد کی تھی جب کہ جمعرات کو اس کے منقولہ، غیر منقولہ اور انسانی وسائل پر پابندی لگاتے ہوئے اثاثے منجمد کرنے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃکے تمام آپریشنز اسلام آباد انتظامیہ اور پنجاب حکومت کے حوالے کردیے، ان میں کچھ اسکول اور مدارس بھی شامل ہیں۔فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃسے منسلک 69 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں، دونوں جماعتوں کی ایک کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقم بھی منجمد کردی گئی جب کہ70 افراد کے خلاف 141 مقدمات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے امریکا اور فرانس سے بھی دونوں تنظیموں کی ویب سائٹس بلاک کرنے کی درخواست کردی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم کو اس حوالے سے 2روز قبل بریفنگ بھی دی گئی ہے۔ دوسری جانب جماعت الدعوۃ پاکستان کے ترجمان یحییٰ مجاہدنے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت بھارت اور امریکا کی خوشنودی کے لیے ملک بھر میں ایسی کارروائیاں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف کے اثاثہ جات قبضہ میں لینے سے بلوچستان، سندھ، پنجاب، شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں جاری ریلیف سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور تعلیم و صحت سمیت دیگر رفاہی و فلاحی منصوبہ جات جاری رکھنامشکل بنا دیا گیا ہے،ہم حکومت پاکستان کے ان غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کیخلاف بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی حافظ سعید و دیگر رہنماؤں کوبلا وجہ نظربند رکھا گیا اور اب ایک بار جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے ہزاروں کی تعداد میں غرباء، یتامیٰ، بیوگان اور مستحق افراد متاثر ہوئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ