مقبوضہ بیت المقدس ، اسرائیل گھٹنے ٹیکنے پر مجبور مسیحی مرکز کھول دیا گیا

160
مقبوضہ بیت المقدس: کلیسائے قیامت کے باہر بڑی تعداد میں زائرین موجود ہیں‘ گرجے کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے‘ بائیں جانب چھوٹی تصویر میں مسلمان کلید بردار ادیب جودہ حسینی بھی موجود ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: کلیسائے قیامت کے باہر بڑی تعداد میں زائرین موجود ہیں‘ گرجے کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے‘ بائیں جانب چھوٹی تصویر میں مسلمان کلید بردار ادیب جودہ حسینی بھی موجود ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس میں قائم مسیحی دنیا کی مقدس عبادت گاہ کلیسائے قیامت کو 3 روزہ بندش کے بعد زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیت المقدس میں گرجا گھروں کی املاک پر ٹیکس لگانے کے بعد اتوار کو کلیسائے قیامت کو زائرین کے لیے تا اطلاع ثانی بند کردیا گیا تھا۔رومن کیتھولک، رومن آرتھوڈوکس اور ارمن چرچ کی طرف سے گرجا گھروں کی املاک پر ٹیکسوں کی مذمت کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے اقدام کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بیت المقدس میں گرجا گھروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ تینوں فرقوں نے ’ارنونا‘ نامی اسرائیلی ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس احتجاج میں مقامی مسلمانوں نے بھی مسیحی برادری کا بھپور ساتھ دیا۔ علاقائی اورعالمی تنقید کے بعد اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے گرجا گھروں کی املاک پرعائد کردہ ٹیکس معطل کردیا، جس کے بعد بدھ کے روز کلیسائے قیامت کو زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔ منگل کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ کلیسائے قیامت اور دیگر گرجا گھروں کی املاک پرعائد کردہ ٹیکسوں کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ فلسطین کے مسیحی رہنماؤں نے چرچوں کے زیرانتظام املاک پر ٹیکسوں کے نفاذ کو حد درجہ خطرناک اقدام قرار دیا تھا۔ مسیحی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدام غیرمعمولی، غیرمسبوق اور گرجا گھروں پر منظم حملہ ہے۔ دوسری جانب صہیونی ریاست کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے اطراف میں یہودی بستیوں کی تعمیرو وتوسیع کے ساتھ ساتھ کھدائیوں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے صہیونی انتہا پسند حکومت نے اموی محلات بالخصوص بستان اور سلوان کے مقامات پر کھدائیوں میں اضافہ کیا۔ سلوان میں دفاع اراضی کمیٹی کے ترجمان فخری ابو دیاب نے کہا کہ حالیہ ایام کے دوران سلوان کے مقام پر یہودی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔خاص طور پر عین سلوان کے مقام پر اسرائیلی فوج کی کھدائیوں کا سلسلہ غیرمعمولی حد تک شدت اختیار کرگیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے عین الفوقا کے مقام کو بند کردیا جب کہ عین سلوان کے مقام پر15 مقامات پر کھدائیاں کی جا رہی ہیں۔ ابو دیاب نے بتایا کہ صہیونی حکام کی طرف سے زیرزمین کھدائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان میں العین الکبریٰ، عین مریم اور دیگر مقامات شامل ہیں۔’سلوان ٹاؤن میں باب مغاربہ کے قریب صہیونی حکومت نے ’کیدم‘ کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ