کوئٹہ ؛ایف سی کیمپ اور ڈی ایس پی کی گاڑی پر حملے ،6 اہلکار شہید متعدد زخمی 

180
کوئٹہ: سیکورٹی اہلکار حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی کا معائنہ کررہے ہیں۔ چھوٹی تصویر میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے 
کوئٹہ: سیکورٹی اہلکار حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی کا معائنہ کررہے ہیں۔ چھوٹی تصویر میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے 

کوئٹہ (نمائندہ جسارت/مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ میں ایف سی کیمپ پر خودکش حملے اور ڈی ایس پی کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ایف سی کے4 اہلکار اور پولیس کے2 اہلکار شہید ہوگئے145 سیکورٹی فورسزکے اہلکاروں کو نواحی علاقے نوحصار میں نشانا بنایا گیا145 ایف سی کے6 اہلکار زخمی بھی ہوئے145علاقے
میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا145 اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ کوئٹہ میں سمنگلی روڈ پر پولیس افسر حمیداللہ دستی کے قافلے پرگھات لگائے حملہ آوروں نے فائرنگ کردی جس میں وہ محفوظ رہے تاہم2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے 145ملزمان فرار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے نوحصار میں خوبی تالاب کے علاقے میں واقع ایف سی اور لیویز کے کیمپ کے قریب خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں4 ایف سی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ 6 زخمی ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف سی اور لیویز کے کیمپ پر خودکش حملہ کیاگیا145 دھماکے کے ساتھ ہی فائرنگ بھی ہوئی ہے۔ دھماکا سیکورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران ہوا۔ دھماکا ہوتے ہی لیویز اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ شہید اہلکاروں کی لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں کوئٹہ میں ڈی ایس پی حمید اللہ دستی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ حملے میں 2 محافظ پولیس اہلکارشہید ہوگئے145 گولیوں کی زد میں آکر ڈھائی سالہ بچہ اور نجی بینک کا سیکورٹی گارڈ بھی زخمی ہوا۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ بدھ کی صبح تقریباً9 بجے سمنگلی روڈ پر ڈسٹرکٹ جیل کے قریب اس وقت پیش آیا جب پراسیکیوٹر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس حمیداللہ دستی ارباب ٹاؤن میں واقع اپنی رہائش گاہ سے اہلیہ عندلیب عباسی ایڈووکیٹ کے ہمراہ ہائی کورٹ کی طرف جارہے تھے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق دہشت گرد پہلے سے گھات لگائے تھے145 جیسے ہی پی ڈی ایس پی کی گاڑی قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے مختلف اطراف سے فائرنگ کردی۔ گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے حمیداللہ دستی محفوظ رہے جبکہ ڈبل کیبن گاڑی کی پچھلی جانب بیٹھے 2 محافظ شہید ہوگئے۔ ڈی آئی جی کے مطابق ابتدائی شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آوروں کی کم از کم تعداد3 تھی۔لاشوں کی شناخت پولیس کانسٹیبل محمد طاہر ولد شاہ مرزا خان اور ایوب شاہ ولد عظیم شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس، ایف سی اور حساس اداروں کے افسران اور اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے۔ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک سفید رنگ کے کپڑے پہنے پیدل حملہ آور تاک میں کھڑا ہے جس نے شناخت چھپانے کے لیے سر پر کیپ اور چہرا کپڑا سے ڈھانپا ہوا ہے۔ سڑک کی دوسری جانب2 حملہ آور کھڑے نظر آتے ہیں145 جیسے ہی گاڑی قریب آتی ہے تو وہ اندھا دھند فائرنگ شروع کردیتے ہیں۔علاوہ ازیں کوئٹہ میں شہید پولیس اہلکاروں کی نمازجنازہ پولیس لا ئن میں ادا کردی گئی ہے145 نماز جنا زہ میں آ ئی جی پولیس بلوچستان معظم جا ہ انصاری،ڈی آ ئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ